افغانستان سے رہائی پانے والے کہاں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لاہور ہائیکورٹ نےمحکمہ داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر افغانستان کی بگرام جیل سے رہائی پانے والے تئیس پاکستانیوں کے بارے میں معلومات عدالت میں پیش کریں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اگست اور ستمبر میں تئیس پاکستانیوں کو امریکی فوجیوں نے پاکستانی حکام کے حوالے کیا تھا۔ لیکن ابھی تک ان افراد کا اپنے خاندانوں اور وکلا سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے حکم دیا کہ اگلی پیشی پر وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی کے حکام رہائی پانے والے پاکستانیوں کے بارے میں معلومات لے کر خود عدالت میں حاضر ہوں۔ عدالت نے وزارت خارجہ سے بگرام جیل میں اس وقت قید پاکستانیوں کے بارے میں بھی معلومات طلب کر لی ہیں۔
عدالت نے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دی ہے اور کیس کی آئندہ سماعت اٹھائیس اکتوبر کو مقرر کی ہے۔
قیدیوں کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کی ڈائریکٹر بیرسٹر سارہ بلال نے عدالت کو بتایا کہ رہائی پانے والوں کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کے بارے میں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے جس سےقیدیوں کے خاندان پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔
گذشتہ ماہ محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ بگرام میں قید مزید چودہ پاکستانیوں رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم وہ کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اس حوالے سے کوئی معلومات منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔ اس سے پہلے اگست میں بھی نو پاکستانیوں کو افغانستان سے رہائی ملی تھی لیکن ابھی تک ان افراد کی اپنے گھروں کو واپسی نہیں ہو سکی۔
ان پاکستانیوں کو بغیر کسی ٹھوس الزام کے کئی برس تک افغانستان کی بدنام زمانہ جیل میں قید رکھا گیا جس پر امریکہ کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اب اس خطے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کے بعد اتحادی فوجیں واپسی کی تیاری میں ہیں اور بہت سے معاملات انخلا سے پہلے طے کیے جا رہے ہیں، جن میں قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔



