’افغانستان سے شدت پسندوں کا حملہ‘، ایک اہلکار ہلاک

دہشت گرد ماضی میں بھی افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں حفاظتی چوکیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندہشت گرد ماضی میں بھی افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں حفاظتی چوکیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے 70 سے 80 شدت پسندوں نے صوبے بلوچستان کے مسلم باغ سیکٹر میں پاکستانی حدود میں حملہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان شدت پسندوں کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے فائرنگ کر دی۔

حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے نائیک نیاز ہلاک ہو گئے۔

مسلم باغ سیکٹر کوئٹہ سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر قلع سیف اللہ میں واقع ہے۔ قلع سیف اللہ کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔

خیال رہے کہ شدت پسند ماضی میں بھی افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں حفاظتی چوکیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اس سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں گذشتہ برس افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں نے سالارزئی کے علاقے میں ایک حفاظتی چوکی پر حملہ کیا تھا۔

شدت پسندوں کے اس حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان کی جانب سے سرکاری سطح پر افغانستان سے اس قسم کی کارروائیاں کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

کچھ عرصہ سے افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔