پتہ لگائیں دھاندلی کس نے کی، وزارت قانون کا چیف جسٹس کو خط

نواز شریف نے قوم سے خطاب میں چیف جسٹس کو عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننواز شریف نے قوم سے خطاب میں چیف جسٹس کو عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی تھی

پاکستان کی وزارت قانون نے گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے لیے ایک خط لکھا ہے۔

یہ خط سیکرٹری قانون و انصاف کی طرف لکھا گیا ہے۔ اس خط میں منگل کے روز وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اُنھوں نے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے تحققیات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی بات کی گئی تھی۔

اس خط میں پاکستان کے چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ تین رکنی بینچ تشکیل دیں جو 90 روز میں اس بات کا تعین کرے گا کہ عام انتخابات میں کس کو فائدہ پہنچایا گیا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس خط کے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس خط کو چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر اعظم کی طرف سے عدالتی کمیشن بنانے کی تجویز یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ میاں نواز شریف کی موجودگی میں کوئی بھی کمیشن آزادانہ طور پر تحقیقات نہیں کر سکتا۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ اب عوام کے سمندر کو حکومت نہیں روک سکتی اور اگر پولیس نے تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے خلاف کچھ کیا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

انھوں نے حکومت کو مخاطب کر کے کہا کہ ’فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ ہمیں آرام سے آنے دیں گے یا پھر کنٹینر رکھ کر جو آپ راستہ روک رہے ہیں، آپ اپنی قبر کھودیں گے۔‘

دوسری جانب حکومت پنجاب نے کنٹینر ہٹانے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔