کرائے کا بجلی گھر کیس، تفتیش شروع

قومی احتساب بیورو کے مطابق ملزمان نے ’کارکے‘ کمپنی کے ساتھ معاہدے کے دوران قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقومی احتساب بیورو کے مطابق ملزمان نے ’کارکے‘ کمپنی کے ساتھ معاہدے کے دوران قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

قومی احتساب بیورو نے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے مینجنگ ڈائریکٹر این اے زبیری اور لکھڑا پاور جنریشن کمپنی کے دو سابق چیف ایگزیکٹیوز انور بروہی اور محمد جمیل شامل ہیں۔

نیب حکام کے مطابق ملزمان کے ذمے 67 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

نیب نے این اے زبیری کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے ان کا نو دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جب کہ دیگر دو ملزمان کو کراچی سے گرفتار کر کے انھیں تین دن کے راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد لایا جا رہا ہے۔

ان ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے ترکی کی ایک کمپنی کو کراچی میں کرائے کا بجلی گھر لگانے کا ٹھیکہ دیا تھا اور اس ضمن میں ترکی کی کمپنی ’کارکے‘ اور ’لکھڑا پاور جنریشن کمپنی‘ کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوا تھا۔

قومی احتساب بیورو کے مطابق ملزمان نے ’کارکے‘ کمپنی کے ساتھ معاہدے کے دوران قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

نیب کے مطابق ’کارکے‘ کمپنی پر 12 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد کی رقم واجب الادا ہے جب کہ اس رقم پر 12 کروڑ روپے مارک اپ بھی اس کمپنی کے ذمے ہے۔

نیب حکام کے مطابق اس کمپنی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے سرکاری خزانے سے جو رقم دی گئی تھی اس کے مطابق کرائے کے بجلی گھر بجلی پیدا نہیں کر رہے تھے۔

نیب ذرائع کے مطابق کرائے کے سات بجلی گھروں کے خلاف ریفرنس احتساب عدالتوں میں زیرِسماعت ہیں اور ان میں سے صرف ایک کمپنی ’نوڈیرو ٹو‘ کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جب کہ باقی کرائے کے بجلی گھروں کے خلاف مقدمات کے چالان ابھی تک پیش نہیں کیے گئے۔

نیب ذرائع کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر سمندری میں ٹیکنو کے ذمے تقریباً سوا ارب روپے واجب الادا ہیں اور اس مقدمے کا بھی چالان عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ سابق وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمات میں مرکزی ملزمان میں شامل ہیں، تاہم عدالت نےاُنھیں ان مقدمات میں حاضری سے استثنیٰ دے رکھا ہے۔