پی آئی اے اور سعودیہ میں واجبات کا تنازع

پاکستان کی بین الاقوامی ائر لائن پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کے مطابق واجبات کی ادائیگی نہ کرنے پر سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نوٹس تو بھجوایا ہے تاہم سعودیہ کی جانب سے پی آئی اے کا کوئی آپریشن بند نہیں کیا جا رہا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ پارکنگ کے جارجز میں پانچ لاکھ سعودی ریال پر مشتمل واجبات کی ادائیگی ایک متنازعہ معاملہ ہے اور امید ہے کہ جمعرات تک یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ رقم کی ادائیگی2004 سے نہیں کی گئی اور اس سلسلے میں پی آئی اے کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا۔
’2004 میں انھوں نے ہمیں(واجبات کی ادائیگی) کا تخمینہ لگا کر دیا تھا لیکن ہم نے اعتراض کیا تھا کہ یہ زیادہ واجبات ہیں اور اس سلسلے میں ہم نے دعویٰ بھی جمع کرایا تھا۔ بدھ کو بھی ان سے بات چیت ہوئی ہے اور معاملہ تقریباًحل ہو ہی گیا ہے۔‘
پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کے مطابق چار پانچ لاکھ ایک معمولی رقم ہے اس کے عوض کوئی ملک کسی ملک کی پروازیں نہیں روکتا کیونکہ کمپنیز کے درمیان لین دین کے معاملات چلتے رہتے ہیں۔ پی آئی اے کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی آپریشن کے بند ہونے کا خدشہ نہیں اور نہ ہی آج تک واجبات کی ادائیگی کی وجہ سے کبھی پی آئی اے کا آپریشن کسی ملک کی جانب سے بند کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران پی آئی اے کی 30 سے زائد پروازیں سعودی عرب جاتی ہیں اور عمرہ سیزن کے لیے الگ فلائٹس ہوتی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے 38 جہاز دنیا کے 32 ممالک میں جاتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 15 ہزار مسافر پی آئی اے سے سفر کرتے ہیں ۔
’اس میں ہر وقت آپریشنل رہنے والے جہازوں کی تعداد 27 یا 28 ہے باقی جہاز معمول کی جانچ پڑتال کے لیے کچھ دیر کے لیے گراؤنڈ ہوتے ہیں جبکہ تین یا چار جہاز استعمال نہیں ہو رہے اور وہ قابل استعمال نہیں کیونکہ پرانے یا خراب ہو چکے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ جنوری 2014 میں پاکستان کے نجکاری کمیشن نے ملک کے جن تین اداروں کی نجکاری کی منظوری دی تھی ان میں قومی فضائی کمپنی پی آئی اے بھی شامل ہے۔
نجکاری بورڈ کمیشن کے اجلاس میں پی آئی اے کے 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ ہو، اختیارات کے بے جا استعمال کا، قواعد کی خلاف ورزی کا ہو یا پھر من مانی تقرریوں کا پی آئی اے برس ہا برس سے ان مسائل میں جکڑا دکھائی دیتا ہے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مالی خسارے کا شکار یہ ادارہ ہر دورِ حکومت کے فیصلوں سے ترقی سے تنزلی کی جانب گامزن ہے۔







