پاکستان میں ’شراب نوشی کی لت‘

- مصنف, چارلس ہیویلینڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
پاکستان کے ایک شہر کے مضافات میں رات کو موسیقی کی دھنیں ایک فلیٹ کے باہر تک سنائی دے رہی ہیں اور فلیٹ کے اندر ایک بار ہے جہاں مے خواروں کو طرح طرح کی شرابیں پیش کی جا رہی ہیں۔
کمرے کی چمکتی دمكتي روشنیوں کے درمیان درجنوں لوگ ہنس رہے ہیں، ناچ رہے ہیں اور اپنے اپنے جاموں سے شراب کی چسکیاں لے رہے ہیں۔
یہ ان پارٹیوں میں سے ایک ہے جو خاموشی سے پاکستان کے شہروں میں بپا ہوتی رہتی ہیں۔
<link type="page"><caption> آڈیو رپورٹ: پاکستان میں شراب نوشی کا رجحان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2013/09/130917_alcoholism_in_pakistan_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
شراب غیر قانونی شراب بیچنے والوں سے خریدی جاتی ہے یا ان دکانوں سے جو صرف اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شراب فروخت کرنے کے لیے بنی ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان سے استفادہ کرنے والوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کی ہوتی ہے۔
پاکستان میں شراب بنانے کی فیکٹریاں بھی ہیں، جہاں شراب کی پیداوار صرف غیر مسلموں کے لیے یا برآمد کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
پاکستان میں شراب پینے کی روایت پاکستان کے ’شراب سے پاک‘ ملک کے درجے کو غلط ثابت کرتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 96 فیصد افراد مسلمان ہیں جو مذہبی احکامات کے تحت شراب نہیں پی سکتے۔
ایسے لوگوں کے لیے 80 کوڑوں کی سزا طے ہے لیکن اسے سختی سے لاگو نہیں کیا جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شراب سے متعلقہ بیماریوں میں اضافہ

ایسی کئی سماجی تقاریب بھی ہوتی ہیں، جہاں شراب نہیں پی جاتی اس کے باوجود شراب پینے کی لت بڑھتی جا رہی ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں شراب سے متعلق بیماریوں میں کم سے کم دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
طاہر احمد اب شراب نوشوں کی بحالی کے لیے ’تھیرپی ورکس‘ نامی تنظیم چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں شراب نوشی کا ’رواج بڑھا ہے۔‘
چھ سال پہلے جب انہوں نے کام شروع کیا تھا، اس وقت زیادہ تر پینے والوں کی عمریں 20 سال کے لگ بھگ ہوا کرتی تھیں، مگر اب 14 سال تک کے لڑکے بھی شراب پیتے ہیں۔
کئی بار شراب کو منشیات کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی بڑی مقدار میں شراب پیتا ہے تو وہ سماجی دباؤ کے ردِعمل میں، سیاسی تشدد اور بے روزگاری کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔
طاہر احمد کہتے ہیں ’بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں شراب شوقیہ نہیں بلکہ دنیا سے فرار اور راحت حاصل کرنے کے لیے پی جاتی ہے۔ مطلب جب تک بوتل خالی نہیں ہو جاتی اس وقت تک پيو۔‘
’خواتین کے لیے معیوب‘

رئیسوں میں شراب پینا خاص طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ملک کے بڑے رہنما بھی شراب پیتے ہیں اور کئی تقریبات میں شراب پیش کی جاتی ہے لیکن یہ بات کبھی سرعام نہیں آئی یا کیمرے پر ریکارڈ نہیں ہوئی۔
لیکن اس کا اثر سب پر پڑتا ہے۔ گذشتہ ماہ کراچی میں کم سے کم 12 افراد کی موت گھر میں بنی زہریلی شراب پینے سے ہوئی۔
پاکستان میں شراب پینے والوں میں کچھ خواتین بھی ہیں۔ خواتین میں شراب نوشی کو زیادہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔
لاہور میں سارہ نام کی ایک خاتون (جن کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے) اپنی کہانی بتاتی ہیں۔
پانچ سال پہلے جب وہ 33 سال کی تھیں تو انھیں طلاق ہو گئی اور پھر انہیں شراب پینے کی عادت پڑ گئی۔
وہ کئی دن تک شراب نوشی کرتیں اور یہاں تک کہ وہ بعض اوقات بے ہوش ہو جاتیں۔
وہ کہتی ہیں ’میں اٹھتی اور مجھے یاد ہی نہیں ہوتا کہ گذشتہ دو تین دن کس طرح گزرے کیونکہ میں اتنے نشے میں ہوتی تھی۔ اس صورتحال سے میں بہت خوفزدہ ہو گئی تھی۔‘
جب یہ بات پھیلی تو وہ اپنے دو بچوں کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئیں۔ اب وہ شراب سے نجات پانے کے بحالی مرکز میں جانا چاہتی تھیں لیکن پاکستان میں کسی عورت کے لیے یہ بہت مشکل کام ہے۔
وہ کہتی ہیں ’کچھ مرد کہہ سکتے ہیں کہ ’ٹھیک ہے، مجھے کوئی پریشانی ہے۔‘ لیکن ایک عورت کے لیے یہ دھبا ہے۔ ایک خاتون کبھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجھے یہ دقت ہے اور مدد چاہیے۔ یہ کسی کو منظور نہیں ہے۔‘
نو ماہ پہلے، انہوں نے آخر کار ’تھیریپي ورکس‘ سے مدد طلب کی اور گھر پر ہی علاج کروایا۔ اب وہ بحالی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
بحالی کے مختلف طریقے

کچھ ایسے کلینک بھی ہیں جن کا علاج کا طریقہ کچھ زیادہ سخت ہے۔
میں ’ولنگ ویز‘ نام کے ایک کلینک میں پہنچا جہاں لوگ اپنے خاندان کی رضامندی سے داخل ہوتے ہیں لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ انہیں تین مہینے وہیں رہنا ہوگا۔
وہاں رہنے کے دوران انہیں ہر طرح کی نشہ آور چیزوں، جیسے تمباکو، سے دور رکھا جاتا ہے۔ اور بیرونی دنیا سے رابطہ کاٹ دیا جاتا ہے۔
یہاں کے ایک سابق مریض نے بی بی سی سے رابطہ کیا اور کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ یہاں کچھ زیادہ ہی سختی ہوتی ہے۔
لیکن اس سے مطمئن ایک اور سابق مریض، کاروباری یوسف عمر، کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں فائدہ پہنچا۔
یوسف عمر کہتے ہیں ’اس نے میری زندگی بدل دی اور اب میں ایک کامیاب آدمی ہوں۔‘
اب میڈیا بھی شراب کی لت سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے۔

کراچی کے ریڈیو 191 ایف ایم پر ایک ماہرِ نفسیات براڈكاسٹر ڈاکٹر فیصل ممسا ہر جمعرات اور جمعے کی رات ان تمام چیزوں پر بات کرتے ہیں جو سماجی طور پر منع ہے، ان میں شراب کی لت بھی شامل ہے۔
وہ کال کرنے والوں کو کہتے ہیں ’بولیے۔ میں سن رہا ہوں۔‘ بات ملی جلی اردو اور انگریزی میں ہوتی ہے۔
پروگرام میں شراب سے متاثرہ لوگوں کا حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ان کے شوہر 13 سال سے پی رہے ہیں لیکن وہ انھیں اس کے لیے مدد لینے کو نہیں کہہ سکتی۔ ڈاکٹر انھیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ’الکوہولکس انامی مس‘ نامی شراب نوشوں کی تنظیم سے بات کریں۔
ڈاکٹر ممسا کہتے ہیں کہ ریڈیو پر شناخت ظاہر نہ ہونا اس مسئلے کے لیے مثالی بات ہے۔
ان کا کہنا ہے ’مجھے ناموں کی پروا نہیں۔ جو چیز معنی رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے پر بات ہو رہی ہے۔‘
پاکستان کے سرکاری ’شراب سے پاک‘ درجے کے مستقبل قریب میں تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اب کم از کم یہ ہو رہا ہے کہ شراب پینے والے سامنے آ رہے ہیں اور اس بارے میں بات کر رہے ہیں اور اپنی مصیبت سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔







