بجلی کا بحران، تعلیم اور صحت کا فقدان

پاکستان کے اقتصادی جائزہ رپورٹ 2012 اور 2013 کے مطابق ملک میں توانائی کی 65 فیصد ضروریات تیل اور قدرتی گیس سے پوری کی جاتی ہیں۔
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں قدرتی گیس کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان دنیا میں کوئلے کے ذخائر کی فہرست میں چھٹے نمر ہے لیکن ملک میں صرف 10 فیصد توانائی کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے۔
پاکستان کے اقتصادی جائزہ رپورٹ 2012 اور 2013 کے مطابق پاکستان میں توانائی کے حصول تقریباً نصف قدرتی گیس پر مشتمل ہے جبکہ درآمدی تیل سے29 فیصد توانائی پیدا کی جاتی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال دو ہزار بارہ دو ہزار تیرہ میں ملک میں گیس کی پیدوار یومیہ 4 ارب مکعب فٹ رہی ہے۔
پاکستان میں 146 گیس فیلڈز سے قدرتی گیس حاصل ہو رہی ہے۔ ملک میں گیس کے زیر استعمال ذخائر سندھ میں موجود ہیں اور سندھ میں 74 گیس فیلڈز سے قدرتی گیس نکالی جا رہی ہے جبکہ پنجاب میں 13، خیبر پختوانخوا میں 2 اور بلوچستان میں موجود گیس کے 7 ذخائر سے قدرتی گیس مل رہی ہے۔
پاکستان کے علاوہ خطہ کے دوسرے ممالک بنگلہ دیش میں 73 فیصد توانائی کا انحصار قدرتی گیس پر ہے جبکہ بھارت میں گیس کے ذخائر کم ہیں اور وہاں صرف 9 فیصد بجلی گیس سے حاصل کی جاتی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں سوئی ناردن اور سوئی سدرن نے گیس کے 2 لاکھ 37 ہزار 5 سو اٹھاون نئے کنکشن لگائے ہیں۔ نئے گیس کنکشن زیادہ تر گھریلو صارفین کو دیے گئے ہیں جبکہ مالی سال کے دوران صنعتوں کو بھی370 گیس کے کنیکشن دیے گئے ہیں۔
سابق حکومت کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کو ترجیہی بنیاد پر گیس فراہم کی جائے گی اور سال بھر میں 261 دیہاتوں کو پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی کے نظام سے منسلک کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے اقتصادی جائزہ رپورٹ 2012 اور 2013 کے مطابق پاکستان میں 29 فیصد بجلی قدرتی گیس سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ پانی سے 35.7 فیصد اور درآمدی تیل سے35 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
ملک میں بجلی زیادہ تر بجلی قدرتی گیس سے حاصل کی جاتی ہے۔ اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کے جولائی 2012 سے مارچ 2013 کے دوران گیس کی سپلائی گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کم رہی ہے گیس کی سپلائی میں کمی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان کی سابق حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری دور میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے لیے منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔ ایران سے درآمد کی جانے والی گیس بجلی کی پیدوار میں استعمال کی جائے گی۔
تعلیم
اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں پاکستان کی 58 فیصد آبادی خواندہ ہے۔ خواتین میں خواندگی کی شرح 47 فیصد ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ملک میں پانچ سے نو سال کی عمر کے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے کی شرح ایک فیصد اضافے کے بعد 57 فیصد ہو گئی ہے۔
آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بچوں کو سکول میں داخل کروانے کی شرح 60 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں یہ شرح صرف 39 فیصد ہے۔ اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے خراب صورتحال کے باعث کئی اضلاع سے اعدادوشمار نہیں ملے سکے ہیں۔
اقتصادی سروے میں تعلیمی رپورٹ 2012 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2011 کے مقابلے میں 2012 میں ملک کے دیہی علاقوں میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 75 فیصد بچے سکول میں داخل ہوئے ہیں۔ سکولوں میں داخلہ نہ لینے والے بچوں میں 13 فیصد لڑکیاں ہیں۔
تعلیمی رپورٹ میں تعلیم کے معیار قدرے بہتری کے باوجود بھی غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں پانچویں جماعت کے تقریباً آدھے بچے دوسری جماعت میں پڑھائی جانے والی اردو نہیں پڑھ سکتے۔
حکومت نے مالی سال 2012 اور 2013 کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں تعلیم کے لیے 1 ارب 42 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔
صحت

اقتصادی سروے میں فراہم کیے جانے والے اعداوشمار کے مطابق پاکستانیوں کی اوسط عمر تقریباً 65 سال ہے۔
ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 160289 ہے یعنی 1127 افراد کے علاج معالجے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔
پاکستان میں زچگی کے دوران خواتین میں اموات کی شرح خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اور ایک لاکھ حاملہ خواتین میں 260 خواتین زچگی کے دوران ہونے والی پیچدگیوں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں ایک ہزار نوازئیدہ بچوں میں سے 59 بچے پیدائش کے فورًا بعد مر جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار بچوں میں سے 59 بچے پانچ سال کی عمر تک پہچنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ملینئیم ڈیولپمنٹ اہداف کے تحت پاکستان کو 2015 تک نوزائیدہ بچوں میں شرح اموات کو کم کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعین کردہ ہدف کے مطابق 1000 نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح 59 سے کم کر کے 40 کی سطح پر لانا ہے جبکہ زچگی کے دوران خواتین کی اموات کو بھی کم کرنا ہے۔
سروے کے مطابق پاکستان میں سرکاری ہسپتالو میں 1786 افراد کے لیے صرف ایک بستر موجود ہے۔
رواں مالی سال میں پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2 فیصد رہی ہے۔







