کوئٹہ:قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری پر حکمِ امتناع

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 10:03 GMT 15:03 PST

واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر سید مطیع اللہ آغا کا تعلق بھی جے یوآئی (ف) سے ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ہائی کورٹ نے جمیعت علمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس نعیم اختر پر مشتمل بنچ نے پیر کو ایک درخواست پر یہ حکم دیا ہے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی رہنما مولانا عبدالواسع کی بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر تقرر کا نوٹیفیکیشن اتوار کو رات گئے جاری کیا گیا تھا۔

بلوچستان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ نے مولانا عبد الواسع کی تقرری کا نو ٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے 20 نئے اراکین کو حزب اختلاف کی نشستیں الاٹ کی تھیں۔

مولانا واسع اس سے قبل نواب اسلم رئیسانی کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت میں سینیئر صوبائی وزیر تھے۔

اس نوٹیفیکیشن سے پہلے قبل گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کے چھوٹے بھائی نوابزادہ طارق مگسی بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تھے۔

پیپلز پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی رہنما میر صادق عمرانی نے قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے تقرری کو سپیکر کی بد دیانتی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپیکر کا یہ اقدام بلوچستان ہائیکورٹ کے اس حکم کے بھی خلاف ہے جو طارق مگسی کے حق میں چند روز بیشتر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر سید مطیع اللہ آغا کا تعلق بھی جے یوآئی (ف) سے ہے۔

صادق عمرانی نے جن کا شمار وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے سخت ترین مخالفین میں ہوتا ہے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مولانا عبدالواسع ابھی تک سینیئر وزیر ہیں اور انہیں وزارت سے استعفیٰ دیے بغیر قائدِ حزبِ اختلاف مقر ر کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کے لیے نوابزادہ طارق مگسی کو بلوچستان اسمبلی کے 37 اراکین کی حمایت حاصل ہے اور ان کے حامی اراکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

اس صورتحال کے باعث بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے معاملے پر ایک تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواب اسلم رئیسانی نے جو طرزِ حکمرانی اختیار کیا اس کے تحت بلوچستان اسمبلی میں سرے سے حزبِ اختلاف کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔جس کے باعث چار سال آٹھ ماہ سے زائد کے عرصے تک بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری نہیں ہوئی۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت نگران وزیراعلیٰ کے لیے قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان مشاورت لازمی ہے اس لیے نواب اسلم رئیسانی، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) میں ان کے حامی اراکین اور قابل اعتماد اتحادی جماعتوں جے یوآئی (ف) بی این پی (عوامی) اور عوامی نیشنل پارٹی کی گذشتہ سال کے آخر میں یہ کوشش رہی کہ وہ اپنی مرضی کا قائدِ حزبِ اختلاف لائیں جوکہ ان کی مرضی کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ اور نگراں سیٹ اپ لانے میں معاون ثابت ہو۔

لیکن مسلم لیگ( ق) میں بعض لوگ اس کے خلاف تھے اور وہ نواب اسلم رئیسانی اور ان کے قابل اعتماد اتحادیوں کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے گورنر بلوچستان کے چھوٹے بھائی نوابزادہ طارق مگسی کو قائد حزب اختلاف کے طور پر لائے۔

بعض ذرائع کے مطابق گورنر راج کے خاتمے پر وفاقی حکام نے نواب اسلم رئیسانی سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ بلوچستان اسمبلی کو دوسری اسمبلیوں کے ساتھ تحلیل کرائیں جس پر نواب اسلم رئیسانی اور ان کے حامیوں نے یہ شرط عائد کی تھی کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہٹانے کے علاوہ طارق مگسی کو حز ب اختلاف کے منصب سے ہٹانے میں ان کی مدد کی جائے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>