بلوچستان کا پائیدار حل انتہائی ’دور است‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 13:44 GMT 18:44 PST
رئیسانی

۔ بلوچ سیاستدان شاید ایک مرتبہ پھر وقتی حل تو تلاش کر لیں گے لیکن پائیدار حل ابھی انتہائی دور ہے

پاکستان میں آج کل پارلیمانی آنی جانیوں میں ایک پیش رفت ایسی خاموشی سے ہوئی کہ اس جانب کسی کی توجہ زیادہ نہیں ہوسکی۔ اس کا احساس قومی اخبارات میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی گزشتہ دنوں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰٰ کے ساتھ الوداعی ملاقات کی تصویر دیکھ کر ہوا۔

بلوچستان ایسا واحد صوبہ تھا جس کے وزیر اعلیٰٰ کے ساتھ ساتھ گورنر بھی اس تصویر میں موجود تھے۔ ایک سوال بھی ذہن میں آیا کہ آخر وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے؟

اب تک میں اس گیدڑ سنگھی کا نام ترقیاتی فنڈز سمجھتا تھا، پھر کچھ شک رئیسانی صاحب کی صلاحیتوں پر بھی ہونے لگا لیکن اب جا کر معلوم ہوا کہ اس سب کچھ کا کرتا دھرتا ان کی خوش قسمتی ہے۔ لیکن وہ اس صوبے کے لیے کتنی بڑی بدقسمتی ثابت ہوئی اس بابت کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بلوچستان کہاں پانچ سال پہلے کھڑا تھا وہاں سے ابتری کی جانب زیادہ اگر نہیں گیا تو بہتری سے بھی کوسوں دور ہی ہے۔

صوبے بلوچستان میں شدت پسندوں، اغوا کاروں اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ کس کا راج ہے یہ واضح نہیں ہو سکا ہے۔

دو ماہ کے گورنر راج کے خاموشی سے اختتام پر وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت بظاہر بحال ہوچکی ہے لیکن گروپ فوٹو میں دونوں کی موجودگی سے کیا تاثر دینے کی کوشش کی گئی یہ معلوم نہیں ہوسکا۔

کارکردگی نہ وزیر اعلیٰ کی قابل ستائش رہی اور نہ گورنر کی لیکن الودعی اجلاس میں شریک دونوں رہے۔ یا ابھی تک خود کئی دیگر سنگین معاملات کی طرح اس مسئلے پر بھی کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ یہ تصویر شاید اس کے شش و پنج والی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا صرف چھ ہی تھے

دو ماہ کے گورنر راج میں کل ملا کر تقریباً چھ مشتبہ افراد شیعہ ہزاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیے۔ اس کے علاوہ درجنوں گرفتار بھی ہوئے لیکن ایسے افراد جلد رہائی پا لیتے ہیں اس بارے میں کسی کو شک نہیں۔ تو کیا یہ چھ افراد ہی کوئٹہ میں فرقہ ورانہ تشدد میں ملوث تھے۔

دو ماہ کے گورنر راج میں کل ملا کر تقریباً چھ مشتبہ افراد شیعہ ہزاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیے۔ اس کے علاوہ درجنوں گرفتار بھی ہوئے لیکن ایسے افراد جلد رہائی پا لیتے ہیں اس بارے میں کسی کو شک نہیں۔ تو کیا یہ چھ افراد ہی کوئٹہ میں فرقہ ورانہ تشدد میں ملوث تھے۔ حکومتی دعوے تو یہی کہتے ہیں۔ بقول سکیورٹی فورسز ’مائنڈ اور ماسٹر مائنڈ‘ دونوں ہی مار دیے گئے ہیں۔ تو کیا اب وہاں کی ہزارہ قوم محفوظ ہوگئی ہے؟ غالباً نہیں۔

’راج‘ کرنے والے گورنر نواب ذوالفقار مگسی کو ایک جانب اگر ہزارہ قوم کے عزم کا سامنا تھا تو دوسری جانب اہل سنت والجماعت کا پر زور جارحانہ احتجاج تھا جس نے کچھ زیادہ نہ کرنے دیا۔ بھاگم دوڑمیں ڈنڈے کے ذریعے ہی حل نکالنے کی کوشش کی گئی سیاسی حل کسی حکمران کے ’مائنڈ‘ میں نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔

اس تصویر کو دیکھ کر سپریم کورٹ کے احکامات کا بےنتیجہ اور سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی نواب اسلم بھوتانی کی قربانی رائیگاں جانے کا شدید احساس ہوا۔ دونوں نے وزیراعلیٰ رئیسانی کی حکومت کو ناکام قرار دے کر اسے ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی خاموشی سے واپسی نے کئی لوگوں کو حیران کیا ہے۔

ایک مرتبہ پھر اس سیاسی صورتحال نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ناکامی کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سیاستدانوں نے بھی کوئی قابل رشک کارکردگی نہ دکھائی ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سترہ وزراء نے بالآخر استعفے دے کر پانچ دن کے لیے بحال کی گئی رئیسانی حکومت کے لیے اخلاقی و سیاسی مسئلہ کھڑا کیا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ بلوچ سیاستدان شاید ایک مرتبہ پھر وقتی حل تو تلاش کر لیں گے لیکن پائیدار حل ابھی انتہائی ’دور است‘ ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>