عبوری حکومت اور معیشت کے تقاضے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 01:40 GMT 06:40 PST

نگراں حکومت کے سامنے معیشت کے حوالے سے دو ہی بڑے کام ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول اور بجٹ کی تیاری

پاکستان میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی اور منتخب جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے ہوئے۔

قومی سیاسی تاریخ کا اہم سنگ میل طے ہو گیا۔ اشارے ایسے ہیں کے عبوری حکومت قائم ہونے میں ابھی کچھ وقت لگےگا اور ملک کا انتظام عبوری وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو منتقل ہو جائے گا۔ نگراں وزیر اعظم کون ہو گا یہ ابھی تک واضح نہیں۔

عبوری حکومت کا اصل مقصد تو مقررہ مدت میں انتخاب کرا کے اقتدار نئی منتخب اسمبلی اور حکومت کو منتقل کرنا ہے۔ مگر بڑے معاشی مسائل کو نظرانداز کرنا عبوری حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

عبوری حکومت کا تجربہ پاکستان کے لیے نیا نہیں۔ اگلے چند دنوں میں بننے والی حکومت ملک کے پانچویں عبوری حکومت ہوگی۔ اس سے قبل انیس سو نوے میں اگست سے نومبر تک غلام مصطفیٰ جتوئی، ترانوے میں اپریل تا مئی بلخ شیر مزاری عبوری وزیر اعظم رہے، اسی سال جولائی تا اکتوبر معین قریشی، اس کے بعد نومبر انیس سو چھیانوے تا فروری ستانوے ملک معراج خالد اور نومبر دو ہزار سات تا مارچ دو ہزار آٹھ میاں محمد سومرو نگراں وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ اب یہ ہما کس کے سر پر بیٹھے گا ابھی تک واضح نہیں۔

ہر نگراں حکومت کو مشکل اقتصادی حالات ملے۔ ہر عبوری دور میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی، افراط زر اور مہنگائی، بجٹ خسارہ اور توازن ادائیگی جیسے بڑے مسائل رہے۔ عبوری حکومتوں کو ہر دور میں اقتصادی فیصلے بھی کرنا پڑے۔ اور اگلے چند دنوں میں آنے والی عبوری حکومت کے لیے بھی ایسا کرنا نا گزیر لگتا ہے۔ خاص طور پر عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف سے نیا قرضہ حاصل کرنا۔اگلے مالی سال کے لیے بجٹ بنانے کی ذمہ داری بھی نگراں حکومت کی ہو گی جو توقع ہے کے آنے والی جمہوری حکومت پیش کرے گی۔

اس وقت میعشت کس حال میں ہے، اس کا اندازہ چند موٹے موٹے اشاریوں سے با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر دو کروڑ انتالیس لاکھ ڈالرزکی مزید کمی کے بعد اس وقت بارہ ارب ستاون کروڑ رہ گئے ہیں۔ حالانکہ سال کے اعتبار سے ترسیلات زرآٹھ ماہ میں سات اعشاریہ پانچ فیصد اضافے کے ساتھ نو ارب بیس کروڑ ڈالرز کی سطح پر ہیں مگر فروری دو ہزار بارہ کے مقابلے میں فروری دو ہزار تیرہ میں ان میں گیارہ فیصد کمی ہوئی ہے۔

تجارتی خسارہ چھ اعشاریہ چھ فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب پچپن کروڑ ڈالرز کی سطح پر ہے۔ بجٹ خسارہ بے قابو ہے۔ توانائی کا بحران عروج پر ہے اور افراط زر میں اضافے کا رجحان غالب ہے۔

مگر نگراں حکومت کے سامنے معیشت کے حوالے سے دو ہی بڑے کام ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول اور بجٹ کی تیاری۔

پاکستان عالمی ادارے سے لیے گئے قرض کی قسطیں اب تک بروقت ادا کر رہا ہے۔ لیکن زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف کی ضرورت ہے۔

ایران۔ پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر حالیہ پیش رفت کی وجہ سے امریکی مزاج برہم ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کے عالمی ادارے سے نیا قرضہ پرانے قرض کی واپسی شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کے پاکستان آئی ایم ایف سے مزید تین تا چھ ارب ڈالرز قرضہ لے گا تاکہ پرانے قرض کی شیڈول کے مطبق ادائیگی بھی ممکن ہو اور زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرے کی حد تک کم نا ہو جائیں۔

توقع یہ کی جا رہی ہے کے آئی ایم ایف سے نیا قرضہ کڑی شرائط پر ہی مل سکے گا۔ ان شرائط میں روپے کی قدر میں مزید کمی کرنا، حالات کے پیش نظر مالیاتی پالیسی سخت کرنا یعنی شرح سود بڑھانا اور مالیاتی نظام میں جرات مندانہ اصلاحات کرنا شامل ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کے نئے قرض کے حصول کے لیے پاکستان کو امریکی حمایت کی بھی ضرورت ہو گی۔

ایران۔ پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر حالیہ پیش رفت کی وجہ سے امریکی مزاج برہم ہے جو مطلوبہ حمایت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایسے میں نگراں حکومت کو اعلیٰ سفارتکاری اور لائق وزیر خزانہ کی ضرورت ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>