
وہ اپنے دفتر سے گھر روانہ ہوئی تھیں جب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی: ایس ایس پی آصف اعجاز
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان ایک حملے میں ہلاک ہوگئی ہیں۔
پیر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پروین رحمان کی کار پر بدھ کی شام بنارس فلائی اوور کے قریب فائرنگ کی گئی جس میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ انہیں فوری طور عباسی ہپستال پہنچایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
ایس ایس پی آصف اعجاز کراچی ویسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے دفتر سے گھر روانہ ہوئی تھیں جب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل سوار نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو گولیاں پروین رحمان کے گلے پر لگیں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق پروین رحمان کو دھمکیاں بھی ملتی رہی تھیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ کچھ مسلح افراد اورنگی میں واقع ان کے دفتر میں داخل ہوئے تھے اور انہیں جگہ خالی کرانے کو کہا تھا لیکن ان کے ایک ملازم کی پہچان مقامی باثر شخصیت سے تھی جو رابطے پر پہچ گئےتھے۔
اس شخص نے حملہ آورں کو کہا تھا کہ اگر وہ ایک گولی چلائیں گے تو وہ کئی گولیاں چلا سکتے ہیں، جس کے بعد حملہ آور واپس چلے گئے تھے۔
ماہر آرکیٹیکٹ پروین رحمان داؤد انجینرنگ کالج میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیتی تھیں لیکن انہوں نے خود کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کر رکھا تھا، شہر ترقی خصوصاً پانی کی فراہمی اور نکاسی ان کے پسندیدہ موضوع تھے۔
پروین رحمان ان دنوں شہر میں سرکاری زمینوں اور پارکوں پر قبضے پر بھی نظر رکھتی تھیں اور اس حوالے سے ان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی شائع ہوچکی ہے۔
شہر کی کچی آبادی اورنگی کے نکاسی آب کا نظام بنانے اور لوگوں کی مدد کرنے میں اورنگی پائلیٹ پراجیکٹ کا اہم کردار رہا ہے، جس کے سربراہ اختر حمید خان تھے اور پروین رحمان ان کی شاگرد تھیں۔
پروین رحمان نے شہر میں پانی کی غیر قانونی تجارت اور اس میں ٹینکر مافیا کے کردار پر بھی ریسرچ کی تھی۔
پروین رحمان آزاد کشمیر کے زلزلے اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وہ لوگوں کی بحالی کے منصوبوں میں بھی شامل رہی تھیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے نثار بلوچ نامی سماجی ورکر کو نشانہ بناکر ہلاک کیا گیا تھا، وہ شہر کے ایک پارک گٹر باغیچے پر قبضے کی کوششوں کے خلاف کئی سالوں سے قانونی جنگ لڑتے رہے تھے۔






























