کاغذات نامزدگی کے متن پر ’اختلافات‘

آخری وقت اشاعت:  پير 11 مارچ 2013 ,‭ 15:09 GMT 20:09 PST

’ نامزدگی فارم میں ترامیم کی صدر سے منظوری لینا محض ایک رسمی کارروائی ہے‘

آئندہ عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے متن پر حکومت اور الیکشن کمیشن میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے صدرِ پاکستان کی منظوری کے بنا نئے مجوزہ نامزدگی فارم شایع کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق صدرِ پاکستان کی منظوری لازم ہے۔

الیکشن کمیشن کے خیبر پختونخوا کے رکن جسٹس (ر) شہزاد اکبر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیشن نے پیر کو فیصلہ کیا ہے کہ ان کی مجوزہ ترامیم پر مبنی نامزدگی فارم پر ہی آئندہ عام انتخابات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق آزاد، شفاف اور غیرجانبدار انتخاب کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور انہیں اس کے لیے انتظامات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

ان کے بقول سپریم کورٹ نے بھی شفاف انتخابات کے لیے حکم دے رکھا ہے اور اس کے بعد نامزدگی فارم میں ترامیم کی صدر سے منظوری لینا محض ایک رسمی کارروائی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نئے مجوزہ نامزدگی فارم میں امیدوار پر لازم ہوگا کہ وہ تین سال کے انکم ٹیکس ریٹرن پیش کریں بصورت دیگر وہ نا اہل تصور ہوں گے۔ ان کے بقول حکومت چاہتی ہے کہ یہ شق نہیں ہونی چاہیے۔

ادھر وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین اور قانون سے ہٹ کر امیدوار کی اہلیت کے بارے میں نامزدگی فارم میں شقیں شامل نہیں کی جا سکتیں۔

"الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر افسر کے مطابق پہلے فیصلہ ہوا تھا کہ صدرِ مملکت ایران کے دورے پر ہیں اور منگل تک ان کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا لیکن کمیشن کے دو اراکین نے چیف الیکشن کمشنر پر دباؤ ڈال کر صدر کی منظوری کے بنا نامزدگی فارم شائع کرنے کی منظوری لی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نہیں چاہتے کہ اس موقع پر الیکشن کمیشن تقسیم ہوجائے اور فیصلہ اتفاق رائے کے بجائے اکثریت رائے سے ہو اور چیف الیکشن کمشنر اور دو صوبوں کے اراکین سمیت سینیئر افسران کا موقف تھا کہ ایک دن انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن دو صوبوں کے اراکین نے اپنی مرضی کا فیصلہ کرایا۔"

اعجاز مہر، بی بی سی اردو اسلام آباد

انہوں نے بتایا کہ امیدوار کی تعلیم اور ٹیکس کے بارے میں نامزدگی فارم میں الیکشن کمیشن کی تجویز کردہ شقیں غیرضروری ہیں اور آئین یا قانون اس کا تقاضا نہیں کرتا۔

’آج صبح الیکشن کمیشن کی نامزدگی فارم میں ترامیم کی تجاویز اور وزارت قانون کا موقف صدرِ پاکستان کو بھیجا ہے اور قواعد کے تحت الیکشن کمیشن کی تجاویز کی منظوری صدر کی صوابدید ہے اور جو بھی صدر کا فیصلہ ہوگا وہ سب کو منظور ہوگا‘۔

جب ان سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیاں کن نکات پر اختلاف ہے تو فاروق نائیک نے بتایا کہ قانون کے مطابق تعلیم کی کوئی شرط لاگو نہیں ہے لیکن الیکشن کمیشن نے اس کا کالم رکھا ہے، انکم ٹیکس اور سفری اخراجات سے متعلق بھی شقیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ آئین کی باسٹھ اور تریسٹھ شقوں میں جو امیدوار کی اہلیت بیان کی گئی ہے اس کے مطابق نامزدگی فارم بنائیں اور اس میں تعلیم یا ٹیکس کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ انتخابی اخراجات کے بارے میں علیحدہ اکاؤنٹ ہونا چاہیے اور حکومت نے کہا کہ بالکل ایسا ہونا چاہیے لیکن ان کے بقول ‘الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار سے یہ بھی پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنے حلقے میں کتنا کام کیے ہیں ۔۔ میں نے کہا کہ کام کیا یا نہیں کیا یہ تو ووٹر فیصلہ کرے گا۔۔ یہ ( آئین کی شقوں) باسٹھ یا تریسٹھ کی تقاضا نہیں ہے‘۔

"نئے مجوزہ نامزدگی فارم میں امیدوار پر لازم ہوگا کہ وہ تین سال کے انکم ٹیکس ریٹرن پیش کریں بصورت دیگر وہ نا اہل تصور ہوں گے۔حکومت چاہتی ہے کہ یہ شق نہیں ہونی چاہیے۔"

جسٹس (ر) شہزاد اکبر خان، رکن الیکشن کمیشن

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی سوچ کے مطابق ترامیم بھیجی ہیں اور حکومت نے اپنی سوچ کے مطابق موقف دیا ہے اب صدرِ پاکستان کی صوابدید ہے، فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پہلے فیصلہ ہوا تھا کہ صدرِ مملکت ایران کے دورے پر ہیں اور منگل تک ان کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔ لیکن ان کے بقول الیکشن کمیشن کے دو اراکین نے چیف الیکشن کمشنر پر دباؤ ڈال کر صدر کی منظوری کے بنا نامزدگی فارم شایع کرنے کی منظوری لی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نہیں چاہتے کہ اس موقع پر الیکشن کمیشن تقسیم ہوجائے اور فیصلہ اتفاق رائے کے بجائے اکثریت رائے سے ہو۔ کیونکہ ان کے بقول چیف الیکشن کمشنر اور دو صوبوں کے اراکین سمیت سینئر افسران کا موقف تھا کہ ایک دن انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن دو صوبوں کے اراکین نے اپنی مرضی کا فیصلہ کرایا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>