’پارٹیوں کے سربراہان کا بلا مقابلہ انتخاب‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 19:31 GMT 00:31 PST

’پارٹیوں کے اندرانتخابات جیسے بھی ہوں الیکشن ان کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا‘

پاکستان کے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی انتخابات کا عمل تیزی مکمل کررہی ہیں تاہم سیاسی جماعت چاہے حزبِ اقتدار کی ہو یا پھر حزبِ مخالف کی ، زیادہ تر جماعتوں میں ہونے والے انتخابات میں جماعت کے سربراہ کا چناؤ بلا مقابلہ ہی ہورہا ہے۔

سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین بلامقابلہ مسلم لیگ قاف کے دوبارہ صدر بن گئے ہیں جبکہ ایک دن پہلے ہی نائب وزیر اعظم چودھری پرویز الٰہی مسلم لیگ قاف کے بلامقابلہ صوبائی صدر منتخب ہوئے تھے ۔

پولیٹیکل پارٹیز آرڈر دو ہزار دو کے تحت تمام سیاسی جماعتیں اپنی جماعت کے اندر یونین کونسل سے لے کر مرکزی عہدیداروں کے انتخابات کروانے کی پابند ہیں۔

اس سے پہلے حکمران جماعت پیپلز پارٹی پارلیمنیٹرین کے چناؤ میں مخدوم امین فہیم چیئرمین جبکہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اس کے سیکرٹری جنرل چنے گئے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی بلا مقابلہ ہی اپنے جماعت سلم لیگ نون کے مرکزی اور صوبائی سربراہ بنیں۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے اندر جو انتخابات ہوئے ہیں وہ جمہوری روایات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کے بقول ان انتخابات سے جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ جعلی انتخابات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے انتخابات میں ہر عہدے کے لیے کم از کم دو امیدوار ضرور سامنے آنے چاہیں کیونکہ بقول ان کے دنیا میں جس عہدے کے لیے امیدوار نہ ہوں اس کو جمہوری نہیں سمجھا جاتا۔

سہیل وڑائچ کے مطابق جب سیاسی جماعتوں میں بڑے عہدوں پر دو امیدوار آمنے سامنے نہ ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ جماعت کے اندر متبادل قیادت نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی جماعتیں اندرونی انتخابات کرواتے وقت قانون کی اصل روح پر عمل درآمد نہیں کرتی بلکہ ایک رسمی کارروائی یعنی خانہ پوری کی جاتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کروانے کے قانون میں سقم ہے جس کی وجہ سے جیسے بھی انتخابات ہوں الیکشن ان کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا اور اسے پارٹی انتخابات کے نتائج کو ہر حال میں تسلیم کرنا ہے۔

تاہم سیاسی مصبرین نے اس امید کا اظہار کیا کہ جیسے آج سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کی پابندی پر عمل کرایا جارہا ہے آئندہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات جمہوری روایات کے مطابق ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>