ہسپتال میں دھماکہ، خاتون ہیلھ ورکر زخمی

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 10:21 GMT 15:21 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ لنڈی کوتل کے سول ہسپتال میں دھماکے کے نتیجے میں پولیو مہم میں حصہ لینے والے ایک خاتون ہیلتھ ورکر زخمی ہو گئی ہیں۔

دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پیر سے علاقے میں پولیو کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال کو انسداد پولیو کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

دھماکہ کے نتیجے میں ہسپتال کے ایک کمرے کو نقصان پہنچا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلے سے نصب کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے نتیجے میں دھماکہ ہوا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے انسداد پولیو مہم چلانے والے کارکنوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گزشتہ ماہ دنیا میں پولیو کے خاتمے کی مہم کی مانیٹرنگ کرنے والے بورڈ نے پاکستان میں پولیو کے خلاف قطرے پلانےکی مہم کو کمزور قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں پولیو وائرس پھیل سکتا ہے۔

پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے گیارہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

دوہزار نو سے دو ہزار گیارہ تین سال ایسے ہیں جہاں ترتیب وار ایک سو چودہ، ایک سو اکتالیس اور ایک سو اٹھانوے کیسز رپورٹ ہوئے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>