
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ لنڈی کوتل کے سول ہسپتال میں دھماکے کے نتیجے میں پولیو مہم میں حصہ لینے والے ایک خاتون ہیلتھ ورکر زخمی ہو گئی ہیں۔
دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پیر سے علاقے میں پولیو کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال کو انسداد پولیو کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
دھماکہ کے نتیجے میں ہسپتال کے ایک کمرے کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلے سے نصب کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے نتیجے میں دھماکہ ہوا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے انسداد پولیو مہم چلانے والے کارکنوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گزشتہ ماہ دنیا میں پولیو کے خاتمے کی مہم کی مانیٹرنگ کرنے والے بورڈ نے پاکستان میں پولیو کے خلاف قطرے پلانےکی مہم کو کمزور قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں پولیو وائرس پھیل سکتا ہے۔
پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے گیارہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
دوہزار نو سے دو ہزار گیارہ تین سال ایسے ہیں جہاں ترتیب وار ایک سو چودہ، ایک سو اکتالیس اور ایک سو اٹھانوے کیسز رپورٹ ہوئے۔






























