
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں بعض سیاسی جماعتوں نے شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے خوف کے سائے میں انتخابی مہم تو شروع کر دی ہے تاہم یہ جماعتیں انتہائی محدود پیمانے پر عوام سے رابطے کر رہی ہیں۔
مبصرین کہتے ہیں کہ دیگر صوبوں کی نسبت یہاں انتخابی مہم میں شدت قدرے کم ہے لیکن وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ اب تک انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اب تک الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی انتخابی شیڈول جاری ہوا ہے لیکن بیشتر سیاسی جماعتوں کے متوقع امیدواروں نے اپنی جانب سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے ۔
خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا ہے اور انتخابات میں حصہ لینے والے کارکنوں سے درخواستیں طلب کی ہیں لیکن انتخابی میدان میں عوامی نیشنل پارٹی کی وہ سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں جو ماضی میں دیکھی جاتی تھیں۔
اے این پی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے سے یہی تاثر سامنے آیا ہے کہ جماعت نے اب اپنا موقف تبدیل کرکے مذاکرات کی راہ اپنانے کو ترجیح دی ہے۔
اس پالیسی میں تبدیلی کے وجہ انتحابات بتائے جاتے ہیں۔
اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ارباب محمد طاہر نے کہا ہے پالیسی تبدیل نہیں ہوئی بلکہ شروع دن سے عوامی نیشنل پارٹی مذاکرات کے زریعےمسائل کا حل چاہتی ہے۔

اے این پی کے بعد اب جمعیت علماء اسلام (ف) نے آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی ہے
ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان کے آئین کے تحت ہوں گے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
اے این پی کے بعد اب جمعیت علماء اسلام (ف) نے اٹھائیس فروری کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی ہے جس میں جماعت کا قبائلی گرینڈ جرگہ تمام سیاسی جماعتوں سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرے گا۔
اس جرگے کے مرکزی کنوینیئر مفتی عبدالشکور نے بتایا کہ اے پی سی میں قومی سیاسی رہنماؤں کی تائید حاصل کرنے کے بعد مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔
اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے طور پر انتخابی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر کہیں کوئی بڑی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے یہ سرگرمیاں محدود ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین پر ان پانچ سالوں میں شدت پسندوں کی جانب سے متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں جماعت کے اہم رہنما جیسے بشیر احمد بلور اور عالم زیب خان ہلاک ہو ئے ہیں اور وزیر اعلیٰ سمیت جماعت کے سربراہ اسفندیار ولی خان قاتلانہ حملوں میں بال بال بچ گئے تھے۔
جمعیت علما اسلام (ف) نے بھرپور سیاسی سرگرمیاوں کا آغاز کیا ہوا ہے اور ایک ہفتے پہلے شمولیتی جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔
کوئی بڑا جلسہ نہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر انور سیف اللہ خان نے اپنے طور پر رابطے کیے ہیں اور مختلف انتخابی حلقوں میں ایسے امیدواروں سے رابطے کرہے ہیں جن کی انتخابات میں کامیابی کی زیادہ امیدیں ہیں۔ پیپلز پارٹی اب تک اس عرصے میں کوئی بڑا جلسہ منعقد نہیں کر پائی۔
جماعت کے سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو حالیہ کامیابی اس وقت ہوئی جب قبائلی علاقوں کے ایک اہم رہنما منیر اورکزیی نے جمعیت میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر انور سیف اللہ خان نے اپنے طور پر رابطے کیے ہیں اور مختلف انتخابی حلقوں میں ایسے امیدواروں سے رابطے کرہے ہیں جن کی انتخابات میں کامیابی کی زیادہ امیدیں ہیں۔ پیپلز پارٹی اب تک اس عرصے میں کوئی بڑا جلسہ منعقد نہیں کر پائی۔
سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو مشکلات ضرور ہیں اور اس کی بنیادی وجوہات امن و امان کی صورتحال اور توانائی کا بحران ہے لیکن اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کو مشکلات ضرور ہوں گی لیکن سیاسی سطح پر کوششوں سے ان مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں ڈیڑھ ماہ میں دہشتر گردی اور شدت پسندی کے پچاس سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ڈیڑھ و افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اہم شہروں میں حالات کشیدہ ہیں اور لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اس لیے ایسے ماحول میں بڑے پیمانے پر انتخابی سرگرمیاں شروع کرنا سیاسی رہنماوں کے لیے ایک مشکل کام ضرور ہو گا۔






























