
وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور ایف سی کو مضبوط کیا گیا لیکن پھر بھی کوئٹہ کا یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے شيعہ ہزارہ برادري کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تمام سکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ دہشت گردی نے تمام طبقوں کو متاثر کیا ہے اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحدہ ہوکر کارروائی کرنی ہوگی۔
انہوں نے کوئٹہ سانحے کے بارے میں کہا کہ ’ہم ہر حد تک جائیں گے اور وفاقی یا صوبائی ایجنسی کی کوتاہی ثابت ہوئی توذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔
یاد رہے کہ سولہ فروری کو کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں نواسی افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔
اس سے قبل دس جنوری کو کوئٹہ ہی میں علمدار روڈ پر دھماکوں میں سو سے زیادہ شيعہ ہزارہ برادري افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس دھماکے کے بعد لواحقین نے ہلاک ہو نے والوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے میتوں کے ہمراہ دھرنا دیا۔ لواحقین اور مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ صوبے میں فوج تعینات کی جائے۔
دھرنوں کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیا اور وزیر اعظم کوئٹہ گئے اور شيعہ ہزارہ برادري کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس کے بعد صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔
سولہ فروری کے دھماکے کے بعد بھی لواحقین نے تدفین سے انکار کردیا ہے اور مطلبہ کر رہے ہیں کہ صوبے میں فوج کو تعینات کیا جائے۔
ان کے اس مطالبات کے حوالے سے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمدار روڈ کے واقعے کے بعد بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، ایف سی اور نیم فوجی فورسز کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ ’لیکن اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا ہے۔‘
اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سولہ فروری کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے منگل کو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرلیا ہے۔
دوسری جانب ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔






























