
سولہ فروری کے دھماکے کے بعد بھی لواحقین نے تدفین سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبے میں فوج کو تعینات کیا جائے
وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے چھ رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو کوئٹہ جا کر دھرنہ دینے والی شيعہ ہزارہ برادري کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور اس سانحے پر ایک مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔
اس چھ رکنی کمیٹی میں وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مولا بخش چانڈیو، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی امور میر ہزار خان بجرانی، سینیٹر صغریٰ امام، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی ندیم افضل چن اور رکنِ قومی اسمبلی یاسمین رحمٰن شامل ہیں۔
یہ چھ رکنی وفد جلد ہو کوئٹہ کا دورہ کرے گا جہاں یہ شيعہ ہزارہ برادري کے ارکان سے بات چیت کرے گا جبکہ اس کے علاوہ سکیورٹی ایجنسیوں اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے بھی ملاقات کرے گا۔
اس کمیٹی کو سانحۂ کوئٹہ پر ایک مفصل رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا جو یہ اس دورے کے بعد پیش کرے گی۔
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور ایف سی کو مضبوط کیا گیا لیکن پھر بھی کوئٹہ کا یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
انہوں نے شيعہ ہزارہ برادري کے افراد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تمام سکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ دہشت گردی نے تمام طبقوں کو متاثر کیا ہے اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحدہ ہوکر کارروائی کرنی ہوگی۔
انہوں نے کوئٹہ سانحے کے بارے میں کہا کہ ’ہم ہر حد تک جائیں گے اور وفاقی یا صوبائی ایجنسی کی کوتاہی ثابت ہوئی توذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔
یاد رہے کہ سولہ فروری کو کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں نواسی افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔
سولہ فروری کے دھماکے کے بعد بھی لواحقین نے تدفین سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبے میں فوج کو تعینات کیا جائے۔
ان کے اس مطالبات کے حوالے سے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمدار روڈ کے واقعے کے بعد بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، ایف سی اور نیم فوجی فورسز کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ ’لیکن اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا ہے۔‘
اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سولہ فروری کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے منگل کو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرلیا ہے۔
دوسری جانب ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔






























