
پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
بدھ کو تیسرے دن ڈاکر طاہر القادری کے دلائل سنننے کے بعد عدالت نے مختصر حکم میں کہا کہ درخواست گزار اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
عدالت نے دوہری شہریت رکھنے کی بناء پر ڈاکٹر طاہر القادری کے انتخابات پر حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی۔
اس سے قبل سماعت کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری اور چیف جسٹس کے درمیان نسبتاً تند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
مقدمے کی سماعت کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تین روز سے ٹرائل کیا جا رہا ہے اور ان کی دوہری شہریت کے حوالے سے اعتراضات ہو تے رہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ان کی اصل پٹیشن کی سماعت ہی نہیں کی گئی اور ’عدالت نے دوہری شہریت کی بنا پر مجھ سمیت ملین افراد کی نیت پر شک کیا‘۔
منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے عدلیہ کے بارے میں جس انداز سے بات کی اسے بعض مبصرین سخت قرار دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کا الیکشن کمیشن کافی غور و غوص کے بعد تشکیل پایا ہے اور اس کو عدالت خراب نہیں کرے گی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی غیر ملکی پاکستان کے حساس معاملات کے متعلق درخواست لے کر آئے تو ہم اسے نہیں سنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آئے ہوئے شخص کو ملک کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
منگل کو سماعت کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی دوہری شہریت کے بارے میں تحریری جواب جمع کروایا اور اس حوالے سے بینچ کے سوالات کے جواب دیے۔






























