’سیاسی فوائد کے لیے کمیشن کو بدنام کرنے کی کوشش‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 10:09 GMT 15:09 PST

الیکشن کمیشن کا واحد مقصد آزاد اور شفات انتخابات کا انعقاد ہے: الیکشن کمشنر

تحریکِ منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کے بعد پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنے کا مطالبہ درست نہیں اور اُن سمیت الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری قانون کے مطابق ہوئی ہے۔

چیف الیکشن کمیشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پر تنقید سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن اس معاملے میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اُن سمیت دیگر ارکان کی تقرری میں تمام آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کمیشن کے تمام ارکان اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ جج ہیں اور اُن کی کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کرنے والوں نے ایسے ثبوت فراہم نہیں کیے جن سے پتہ چلتا ہو کہ کمیشن کے ارکان کسی قسم کی سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کمیشن کی خودمختاری اور اس کے ارکان کے وقار اور ذاتیات پر حملے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔

فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ اُنہیں الیکشن کمیشن کے ارکان اور سٹاف کی خود مختاری اور قابلیت پر مکمل اعتماد ہے اور الیکشن کمیشن کا واحد مقصد آزاد اور شفات انتخابات کا انعقاد ہے۔

اُنہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین سے درخواست کی کہ وہ الیکشن کمیشن پر بےبنیاد الزامات عائد کرنے کی بجائے انتخابات شفاف کروانے میں الیکشن کمیشن کی معاونت کریں۔

ادھر جمعرات کو ہی تحریکِ منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

دیگر جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے:طاہرالقادری

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پیر کو اسلام آباد میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل میں آئین کے آرٹیکل 213 کو نظرانداز کیا گیا جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے تحت تمام صوبے الیکشن کمیشن کے پانچوں ارکان کے لیے تین تین نام بھجوائے جائیں گے جس کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرتی ہے لیکن موجودہ الیکشن کمیشن کی تشکیل میں ایسا نہیں ہوا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے چار ارکان کے خلاف ریفرنس آئین کے آرٹیکل دو سو نو کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوایا جاتا ہے لیکن اس معاملے میں آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اس لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔

اس درخواست میں قومی احتساب بیورو کے سابق سربراہ جسٹس ریٹاریرڈ دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کے معاملے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے معاملے کو بھی اپنی سطح پر ہی حل کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کی بطور چیئرمین نیب تقرری پر قائد حزب اختلاف سے مشاورت نہ کیے جانے پر ان کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

اس درخواست کے علاوہ ایک متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس درخواست پر فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن کو کام کرنے سے روک دیا جائے۔

درخواست جمع کروانے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرالقادری کا کہنا تھا اُن کے علاوہ دیگر جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے موقف سے سپریم کورٹ کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>