
سڑکوں پر ٹرانسپورٹ معمول سے کہیں کم ہے
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعہ کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاکتوں کے خلاف وفاق المدارس اور مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی جا رہی ہے۔
شیعہ علما کونسل نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
شہر میں تاجروں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونےکا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی پبلک ٹرانسپورٹر اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ جمعہ کو احتجاجاً سہ پہر چار بجے تک ٹرانسپورٹ بند رکھیں گے۔
ہڑتال کے نتیجے میں جمعہ کو شہر میں بیشتر تجارتی مراکز اور کاروبار بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ معمول سے کہیں کم ہے۔
نجی اسکول کے مالکان نے آج اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا جبکہ سرکاری تعلیمی ادارے غیر اعلانیے طور پر بند رہے۔
شہر میں بیشتر پیٹرول پمپ بھی بند ہیں جبکہ آج سی این جی سٹیشن کی معمول کے مطابق بندش ہے۔
ہڑتال کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوں سے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ لیاری ایکسپریس وے، لانڈھی، بنارس چوک ، سائیٹ ایریا گرومندر پر مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے جن میں سے بیشتر مدراس کے طالب تھے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں متعدد علماء کی ہلاکت کے خلاف اس ہڑتال کا فیصلہ بدھ کو دیوبند مدارس کے بورڈ وفاق المدارس العربیہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں پہلے مرحلے میں آٹھ فروری کو کراچی میں ہڑتال کرنے اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کی صورت میں یا کسی اور ایسے ہی واقعے کے بعد درس و تدریس کا کام مدارس کے بجائے احتجاجاً سڑکوں پر منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
کراچی میں بدامنی اور ہلاکتوں کے خلاف سنی تحریک کی جانب سے بھوک ہڑتال کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
دو ہزار بارہ کا سال ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بدترین سال رہا ہے اورگزشتہ برس پولیس کے ریکارڈ کے مطابق کراچی میں 2300 افراد قتل ہوئے جن میں سے نصف سے زائد ہدف بنا کر ہلاک کیے گئے۔
دو ہزار تیرہ میں بھی جہاں ابتدائی چند ہفتوں میں ہی کراچی میں دو سو سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے وہیں شہر میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔






























