
کراچی میں تشدد کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ایک بم دھماکے اور تشدد کے دیگر واقعات میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے۔
سندھ پولیس کے ترجمان عمران شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کا نشانہ پولیس کی گاڑی تھی جس پر دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا۔
ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار محکمے میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر تعینات تھے۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے میں سات زخمیوں میں سے چار راہگیر جبکہ تین پولیس اہلکار شامل ہیں۔
کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو دن بھر مختلف تشدد کے واقعات میں گیار افراد ہلاک ہو گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں سے بعض کو ذاتی دشمنی جبکہ بعض کو پولیس کے مطابق ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔
ہلاک ہونے والوں میں نارتھ ناظم آباد میں ایک پچاس سالہ ڈاکٹر مرزا عابد بیگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں اہلسنت واجماعت کا کہنا ہے یہ اُن کے کارکن تھے۔
دوسری جانب کراچی میں وفاق المدارس اور مذہبی جماعتوں نے ایک اجلاس میں علماء کرام اور دیگر افراد کو ہلاک کرنے کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں بدھ کو جامعہ بنوری ٹاؤن میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد زرولی خان، مولانا حکیم محمد مظہر اور دیگر علماء نے شرکت کی۔
اجلاس میں کراچی میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، لوٹ مار، بھتہ خوری، پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت عام شہری، دینی مدارس کے طلباء اور علماء کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے پاکستان نے بھی جمعے کی ہڑتال میں شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر کراچی پبلک ٹرانسپورٹر اتحاد نے بھی جمعہ کو احتجاجاً سہ پہر چار بجے تک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔






























