
چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کو کہا تھا اس معاملے میں ان کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کو کہا تھا
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سرکاری محکموں میں ملازمتوں پر پابندی کے فیصلے پر حکومت کے اعتراضات، ٹیکس نادہندہ اور جرائم میں ملوث افراد کے الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق معاملات پر غور کے لیے چھ فروری کو اجلاس طلب کر لیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے مرحلے کو مزید شفاف بنانے کے علاوہ ایسے افراد کے بارے میں بھی کوئی حکمت عملی بنائی جائے گی جو ماضی میں بدعنوانی اور جرائم میں ملوث رہے ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے بارے میں بھی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جو ٹیکس نادہندہ ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پاکستان مسلم لیگ نواز اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے ایک نمائندہ وفد کو سات فروری کو طلب کرلیا ہے۔
ان جماعتوں کے ارکان نے چار فروری کو الیکشن کمیشن کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا اور کراچی کے بارے میں کچھ تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی پر حکومت تذبذب کا شکار ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے مختلف سرکاری اداروں میں بھرتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی تھی جس میں اُنہوں نے الیکشن کمیشن سے بھرتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کو اس معاملے میں ان کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کو کہا تھا۔
اس وقت وفاقی حکومت کے زیر انتظام مختلف محکموں میں آٹھ ہزار سے زائد آسامیاں پُر کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ بھرتیاں وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں میں ہونا تھیں جن میں ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس اور فرنٹئیر کانسٹیبلری شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سابق پاکستانی سفیر آصف ایزدی کی درخواست پر پنجاب اسمبلی کے اکیس ارکان کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ ارکان اسمبلی دوہری شہریت کے حامل ہیں۔
صوبائی اسمبلی کے ان ارکان کو سات فروری تک جواب داخل کروانے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ جن ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری ہوئے ہیں اُن میں سے زیادہ کا تعلق صوبے میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف سے ہے۔






























