بھرتیوں پر پابندی پر حکومتی اعتراض، اجلاس طلب

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 فروری 2013 ,‭ 14:18 GMT 19:18 PST
چیف الیکشن کمشنر فخرالدین ابراہیم

چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کو کہا تھا اس معاملے میں ان کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کو کہا تھا

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سرکاری محکموں میں ملازمتوں پر پابندی کے فیصلے پر حکومت کے اعتراضات، ٹیکس نادہندہ اور جرائم میں ملوث افراد کے الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق معاملات پر غور کے لیے چھ فروری کو اجلاس طلب کر لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے مرحلے کو مزید شفاف بنانے کے علاوہ ایسے افراد کے بارے میں بھی کوئی حکمت عملی بنائی جائے گی جو ماضی میں بدعنوانی اور جرائم میں ملوث رہے ہوں۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے بارے میں بھی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جو ٹیکس نادہندہ ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے پاکستان مسلم لیگ نواز اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے ایک نمائندہ وفد کو سات فروری کو طلب کرلیا ہے۔

ان جماعتوں کے ارکان نے چار فروری کو الیکشن کمیشن کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا اور کراچی کے بارے میں کچھ تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی پر حکومت تذبذب کا شکار ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے مختلف سرکاری اداروں میں بھرتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی تھی جس میں اُنہوں نے الیکشن کمیشن سے بھرتیوں پر سے پابندی اُٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کو اس معاملے میں ان کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کو کہا تھا۔

اس وقت وفاقی حکومت کے زیر انتظام مختلف محکموں میں آٹھ ہزار سے زائد آسامیاں پُر کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ بھرتیاں وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں میں ہونا تھیں جن میں ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس اور فرنٹئیر کانسٹیبلری شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے سابق پاکستانی سفیر آصف ایزدی کی درخواست پر پنجاب اسمبلی کے اکیس ارکان کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ ارکان اسمبلی دوہری شہریت کے حامل ہیں۔

صوبائی اسمبلی کے ان ارکان کو سات فروری تک جواب داخل کروانے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ جن ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری ہوئے ہیں اُن میں سے زیادہ کا تعلق صوبے میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف سے ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>