
اس واقعے کے باوجود کرم ایجنسی میں پولیو مہم جاری رہے گی
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں بم دھماکے کے نتیجے میں دو پولیو کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔
فاٹا سیکریٹیریٹ کے معلومات عامہ کے ڈائریکٹر عمر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل پر دو افراد سڑک پر نصب گھریلو ساختہ بم پھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح نو بجے اپر کرم کے علاقے مالی خیل میں پیش آیا۔
کرم ایجنیسی میں ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیو جواد علی نے بی بی سی کو پولیو مہم میں شریک دو کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ پولیو مہم میں شریک ٹیم کے دو کارکن مزمل حسین اور اکبر بادشاہ موٹر سائیکل پر مالی خیل کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ان کا موٹر سائیکل سڑک پر نصب گھریلو ساختہ بم سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں دھماکا ہوا اور دونوں افراد موقعے پر ہلاک ہو گئے۔‘
"پولیو مہم میں شریک ٹیم کے دو کارکن مزمل حسین اور اکبر بادشاہ موٹر سائیکل پر مالی خیل کے علاقے میں جا رہے تھے کہ سڑک پر نصب بم کے دھماکے میں موقعے پر ہلاک ہو گئے۔"
کرم ایجنیسی میں ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیو جواد علی
ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق پولیو ٹیم نمبر چار سے تھا اور وہ مالی خیل کے رہائشی تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہلاک شدگان کی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
جواد علی کے مطابق پورے کرم ایجنسی میں تین روزہ پولیو مہم ختم ہونے کے بعد آج (جمعرات) کیچ ڈے یعنی ان بچوں کو پولیو قطرے پلانے کا دن تھا جو مہم کے دوران قطرے پینے سے رہ گئے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی خیل کرم ایجنسی کا محفوظ علاقہ اور جن علاقوں میں سکیورٹی کے مسائل ہوتے ہیں تو فوج اور ملیشا وہاں سکیورٹی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھی باقی مالی خیل سمیت کرم ایجنسی کے باقی علاقوں میں کیچ ڈے کی پولیو مہم جاری ہے اور جو کارکن ہلاک ہو گئے صرف ان کے علاقے کی مہم متاثر ہوئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں جواد علی نے بتایا کہ ابھی تک کرم ایجنسی میں انھیں اور ان کی پولیو ٹیم کو کسی قسم کی دھمکی نہیں ملی تھی اور نہ ہی اس بم دھماکے کی ذمے داری کسی نے قبول کی ہے۔
یاد رہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اس سے پہلے بھی پولیو اہلکار شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔منگل کو بھی خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں ایک پولیو ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
گذشتہ سال کے اواخر میں پولیو کی ٹیموں پر حملوں کے بعد حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ساتھ ایک پولیس اہلکار حفاظت کے لیے مامور کیا جائے گا۔






























