
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں مسجد کے باہر بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور پانچ سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
ڈی ایس پی قمر احمد کا کہنا ہے کہ بم ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے بدھ کی شام کو ایدھی سرد خانے کے قریب پولیس موبائل پر کریکر سے حملہ کیا گیا ، جس میں ایک سب انسپیکٹر سمیت دو اہلکار زخمی ہوگئے۔
ایک روز قبل سہراب گوٹھ تھانے پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
ڈی آئی جی علیم جعفری کا کہنا تھا کہ ایک کالعدم تنظیم کے کارکن کی گرفتاری کے بعد تھانے پر حملہ کیا گیا اور حملہ آور اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوگئے۔
سپر ہائی وے پر واقع سہراب گوٹھ آس پاس میں خیبر پختونخواہ کے علاوہ افغان بستیاں بھی موجود ہیں، جہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی داخل ہونے سے کتراتے ہیں۔
کچھ روز قبل رینجرز کی بھی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ سہراب گوٹھ ہی میں پولیس نے بارود سے بھری ایک ٹیکسی کو تحویل میں لیا ہے۔
ڈی ایس پی سہراب گوٹھ قمر شیخ کا دعویٰ ہے کہ ٹیکسی میں پریشر ککر اور گیس سلینڈر میں بارودی مواد بھرا گیا تھا، جس کو ریموٹ کنٹرول سے چلانا تھا۔
ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ پولیس نے ٹیکسی کی تلاشی لی تو بارود برآمد ہوا، جس کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔






























