
طالبان فیکٹر کوئی ایسی چیز نہیں جس پر قابو نہیں پایا جاسکتا: سپریم کورٹ
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتح ملک نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ان کے پاس ان پانچ ہزار طالبان کی فہرست ہے جو کراچی میں میں داخل ہوئے ہیں۔
یہ بات ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے سپریم کورٹ کو کراچی کی امن و امان کی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران بتائی۔
اس ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ از خود نوٹس اپنے چھ اکتوبر 2011 کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر لیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سماعت کے دوران بینچ نے استفسار کیا کہ جب ایک ممبر صوبائی اسمبلی کراچی میں محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی کیسے محفوظ ہو سکتا ہے۔
بینچ نے کہا کہ طالبان فیکٹر کوئی ایسی چیز نہیں جس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے احکامات کے بعد کراچی میں دو ماہ کے لیے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی لیکن دوبارہ صورتحال خراب ہو گئی۔
’وجہ یہ ہے کہ آپ نے ہمارے احکامات پر پوری طرح علمدرآمد نہیں کیا۔ ہم نے سیاسی جماعتوں کے عسکری دھڑوں کی نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ ان کو ختم کیا جائے۔ ہم نے پولیس میں سے سیاسی عمل دخل ختم کرانے کا کہا تھا۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ سال تین نومبر کو کراچی رجسٹری میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کراچی میں امن وامان کی صورت حال کے متعلق از خود کیس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کی تھی جس میں سندھ کی صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو کراچی شہر میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لینے اور پے رول پر رہا ہونے والے ملزمان کو گرفتار کر کےعدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔






























