
سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ کراچی میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لے۔
سپریم کورٹ نے کراچی کے امن وامان کے حوالے سے اپنے پرانے فیصلوں پر عمل درآمد کیس میں ایک عبوری حکم میں سندھ کی صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو کراچی شہر میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لینے اور پے رول پر رہا ہونے والے ملزمان کو گرفتار کر کےعدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق کراچی رجسٹری میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے سنیچر کو کراچی میں امن وامان کی صورت حال کے متعلق از خود کیس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کی۔
بنچ کی سر براہی جسٹس انور ظہیر جمالی نے کی جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس عارف حسن خلجی، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس امیر ہانی مسلم بنچ کے دیگر ممبران تھے۔
آٹھ صفحات پر مشتمل عبوری حکم میں عدالت نے سندھ حکومت کو کراچی میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کی ہے اور عام شہریوں کو ٹارگٹ کلنگ سے تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے پہلے عدالت کے حکم پر انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے سات ہزار طالبان کے کراچی میں داخل ہونے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی تھی۔
عدالت نے سندھ حکومت کو آتشی اسلحہ کے تمام لائسنسوں کو تین مہینوں کے اندر کمپیوٹرائز کرنے اور پرانے لائسنسوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے حکومت کو شہر میں غیر رجسٹرڈ شدہ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا بھی کہا ہے اور حکومت کو تمام احکامات پر تین مہینوں کے اندر اندر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیر خارجہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی امن و امان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا اور کراچی کی صورت حال کے حوالے سے سپریم کورٹ کے خدشات دور کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ طالبان کے خلاف کارروائی جاری رہے۔






























