
شاہ زیب کو 25 دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نوجوان شاہ زیب کے قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
شاہ رخ جتوئی کو سپریم کورٹ کے احکامات پر دبئی سے گرفتار کرکے کراچی لایا گیا تھا۔ انہیں جمعرات کو بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کیا گیا۔
جج غلام مصطفیٰ جی میمن نے شاہ رخ جتوئی کو تئیس جنوری تک پولیس کی تحویل میں دینے کے ساتھ دیگر چار ملزمان سراج تالپور، ان کے بھائی سجاد تالپور اور ملازم غلام مصطفیٰ لاشاری کے ریمانڈ میں اضافے کی بھی منظوری دی۔
پولیس نے عدالت میں درخواست پیش کی کہ شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا۔ اس درخواست پر عدالت نے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔
عدالت نے شاہ رخ جتوئی کے طبی معائنے کی بھی ہدایت جاری کی تاکہ ان کی عمر کا تعین کیا جاسکے۔
نوجوان شاہ زیب کو پچیس دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکام کو کارروائی کا حکم دیا تھا۔
سندھ پولیس نے قتل کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔






























