
شیخ الاسلام طاہر القادری کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹکی جانب سے عین وقت پر ان کے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کے اعلان کے باوجود ڈاکٹر قادری نے کہا ہے کہ وہ لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ضرور کریں گے۔
لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاست میں پیرا شوٹ سے ان کے اترنے کے بعد ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور ملک کی اکثر بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت اضطراب کا شکار ہے اور آئندہ عام انتخابات کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔
باوجود اس کے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریکل انصاف، جمیعت علماء اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی یا بلوچستان اور سندھ کی قومپرست جماعتیں رواں سال مارچ میں موجودہ پارلیمان کی مدت مکمل ہونے کے فوری بعد آئین کے مطابق انتخابات کا انعقاد چاہتی ہیں۔
لیکن ان تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت انتخابات کے التوا کے خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ مگر کوئی کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں کہ آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو انتخابات کو روکنے کی خواہاں ہیں اور کیا چاہتی ہیں؟
تجزیہ کار اور اینکر پرسن حامد میر نے کچھ روز پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹیبلشمینٹ نہیں چاہتی کہ ملک میں شفاف انتخابات ہوں کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک بھر میں بالخصوص بلوچستان میں اصل عوامی نمائندے آئیں گے جو سکیورٹی فورسز کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کی خواہش ہے کہ انتخابات میں تاخیر ہو اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کی جائے اور موجودہ یا نگران حکومت کو ایک سال تک طول دیا جائے اور موجودہ پارلیمان سے اس بارے میں منظوری لی جائے۔
لیکن صدر آصف علی زرداری یہ بات ماننے کو تیار نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا ان کے لیے سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا اور پھر ڈکٹیٹر اور ڈیموکریٹ میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
صدر آصف علی زرداری جو تین ہفتوں سے زائد عرصے سے کراچی میں ہیں، وہاں بلاول ہاؤس میں اپنی جماعت کی ’کور کمیٹی‘ اور حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کا علحدہ علحدہ اجلاس منعقد کیے ہیں۔ جس کے بعد جاری ہونے والے بیانات میں کہا گیا کہ انتخابات آئین کے تحت مقررہ وقت پر ہوں گے، ایک دن کی تاخیر بھی نہیں ہوگی، اگر جنگ زدہ افغانستان اور عراق میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں؟
حکمران اتحاد یا حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی میں سے کوئی بھی یہ وضاحت کرنے کو تیار نہیں کہ آخر انتخابات کا التوا کون چاہتا ہے اور صدر آصف علی زرداری کو افغانستان اور عراق کی مثالیں کیوں پیش کرنی پڑیں؟ لیکن بظاہر ان کے عراق اور افغانستان میں انتخابات کی مثالوں سے تو تجزیہ کاروں کے موقف کو تقویت ملتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
لیکن ایک اور تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں کہ انہیں انتخابات ملتوی کرانے اور ملک میں افراتفری پیدا کرکے فوجی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کے پیچھے امریکہ کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔ ’طاہر القادری کی آمد اس ایجنڈے کا حصہ ہے کیونکہ امریکن کا موجودہ جمہوری حکومت سے جو تجربہ رہا ہے وہ اس خوش نہیں ہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان میں ایسی حکومت ہو جو فوری ان کی خواہشات کی تکمیل کرے‘۔
حالانکہ ایک امریکی ترجمان اس بارے میں وضاحت کرچکے ہیں کہ علامہ طاہرالقادری کے پیچھے ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ عام طور پر امریکہ اس طرح کے وضاحتی بیان کم ہی جاری کرتا ہے اور یہی وجہ ہے وضاحتی بیان کے باجود اس پر شک و شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کچھ تجزیہ کار متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے حالیہ بیان کو بھی اس سلسلے کی کڑی سمجھتے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئے سندھیوں کو بلدیاتی نظام نہیں ملا تو وہ سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
الطاف حسین کے اس بیان کی سندھ کی قومپرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو نے بھی شدید مذمت کی اور اُسے سندھ میں انتشار پھلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں سیاستدانوں اور بعض تجزیہ کاروں کے خدشات اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ شیخ الاسلام طاہر القادری کی سیاست نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں دوریاں کم کردی ہیں۔
عالمی طاقتوں اور پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمینٹ کی خواہشیں اور سیاسی چالیں اپنی جگہ لیکن جب تک انہیں عدلیہ، میڈیا اور پاپولر سیاسی جماعتوں سے حمایت نہیں ملتی وہ شاید ہی کچھ کرسکیں۔






























