
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ چودہ جنوری کو لانگ مارچ کے شرکاء کو ہر ممکن سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے یہ اعلان پیر کی رات کو ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
کلِک طاہر القادری کی واپسی: جواب کم سوال زیادہ
رحمان ملک نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مذاکرات یا لانگ مارچ ختم کرانے کے لیے نہیں آئے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد سو بسم اللہ آئیں۔
منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں ایک جلسے میں حکومت کو تین ہفتوں میں انتخابی اصلاحات کے لیے مہلت دی تھی اور اعلان کیا کہ انتخابی اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں چودہ جنوری کو لانگ مارچ ہوگا۔
حکومت کی اتحادی سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے بھی لانگ مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد میں لانگ مارچ کی جگہ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے لیے تجویز کردہ مقام سے اتفاق کیا۔
ڈاکٹر طاہر القادری سے اتفاق
"وزیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد میں لانگ مارچ کی جگہ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا اور انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے لیے تجویز کردہ مقام سے اتفاق کیا"
وزیر داخلہ رحمان ملک
لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی خواہش اور اطمینان کے مطابق جتنے وسائل موجود ہیں ان کے مطابق سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ لانگ مارچ کی لانگ سکیورٹی کے لیے چیف سیکریٹری ، ہوم سیکریٹری سمیت دیگر حکام کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔
وزیر داخلہ رحمان ملک نے ڈاکٹر طاہر القادری کی انتخابی اصلاحات کی حمایت کی اور کہا کہ یہ قومی ایجنڈا ہے ۔
منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیرداخلہ کو دوٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ چودہ جنوری کو ہر صورت میں پرامن لانگ مارچ ہوگا اور اگر لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو پھر وہ لانگ مارچ کے پرامن رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے بتایا کہ اگر حکومت ان سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو وزیراعظم کابینہ کے ارکان کے ساتھ ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا لانگ مارچ انتخابات کو ملتوی کروانے کے لیے نہیں ہے بلکہ جمہوریت کو عوامی جمہوریت بنانا ہے۔






























