
زخمیوں میں سے پچیس افراد کی حالت نازک ہے، ہسپتال ذرائع
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
کراچی پولیس کے ترجمان ایس ایس پی عمران شوکت کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد سے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھماکہ فیڈرل بی ایریا کے علاقے عائشہ منزل کے قریب ہوا ہے۔
کراچی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
عباسی شہید ہسپتال کے اسسٹنٹ میڈیکو لیگل آفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پینتالیس افراد کو ہسپتال لایا گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے پچیس افراد کی حالت نازک ہے۔
جس جگہ یہ دھماکہ ہوا اس سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری بھی جلسے گاہ میں موجود تھے۔
یہ جلسہ کچھ دیر پہلے ہی ختم ہوا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ جلسہ گاہ سے باہر نکلے تھے۔اس دھماکے کے نتیجے میں ایک بس کو بھی نقصان پہنچا ہے جس میں ایم کیو ایم کے کارکنان جلسے سے واپس جا رہے تھے۔
پولیس کے ترجمان ایس ایس پی عمران شوکت کا کہنا ہے کہ اس جلسے کی حفاظت کے لیے سات ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دھماکہ پولیس کے حصار سے باہر ہوا ہے۔






























