
پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں محکمۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
فائرنگ کا پہلا واقعہ پیر کو ضلع کچہری کے قریب شاہراہِ اقبال پر اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی۔
فائرنگ سے گاڑی میں سوار محکمۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر ایڈمن خادم حسین نوری موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ خادم حسین نوری کا تعلق اہلِ تشیع سے تھا۔
اس کارروائی کے بعد فرار ہونے والے حملہ آوروں کا سامنا جناح روڈ پر پولیس کی گاڑی سے ہوا اور وہاں ان کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان ہلاکتوں کے بعد پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
فی الحال کسی تنظیم نے ان ہلاکتوں کی ذمہ دار قبول نہیں کی ہے۔
بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ میں اہلِ تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ ان ہلاکتوں کا الزام شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی پر لگایا جاتا رہا ہے۔






























