
جس طرح انسان اپنی قسمت اور خاندانی پس منظر لے کر آتا ہے ۔اسی طرح شہر بھی اپنی قسمت اور خاندانی پس منظر سے پہچانے جاتے ہیں۔ کچھ شہر ایک بار ہی بس کر اجڑ جاتے ہیں جیسے موہنجودڑو ، بابل ، پومپی آئی ، آنگکر واٹ ، تختِ جمشید وغیرہ۔
کچھ بستے اجڑتے رہتے ہیں جیسے روم ، کابل ، دلی ، بغداد وغیرہ ۔اور کچھ ایک دفعہ بس جائیں تو بسے ہی رہتے ہیں جیسے دمشق، قاہرہ، پیرس، لندن، لاہور وغیرہ مگر ان بسے ہوئے شہروں کو بھی کم از کم پچھلے ایک ہزار برس کے دوران متعدد اندرونی و بیرونی حملوں اور بحرانوں سے سابقہ پڑتا رہا ہےلیکن اس زمین پر ایک ایسا شہر بھی ہے جو جب سے بسا ہے ہنستا بستا ہی رہا ہے۔
جنیوا، صرف دس مربع میل میں پھیلا ہوا ہے۔چھ لاکھ نفوس میں سے آدھے غیر ملکی ہیں جو یہاں کے بینکنگ سیکٹر، متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی و علاقائی ہیڈ کوارٹرز اور اقوامِ متحدہ کے زیلی اداروں سے وابستہ ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ جنیوا کو یورپ سے باہر کے لوگوں نے جاننا ہی لگ بھگ سو برس پہلےشروع کیا جب پہلی عالمی جنگ کے بعد اس شہر میں لیگ آف نیشن کا قیام عمل میں آیا ۔
لابنگ کے نام پر دال روٹی
جس زمانے میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا اجلاس ہو رہا ہو اس دوران جنیوا آپ کو دنیا بھر کے دل جلوں اور بھانت بھانت کے ایڈوکیسی کرنے والے گروہوں اور تنظیموں سے ہرا بھرا دکھائی دے گا۔ ان میں سے کئی گروہ ، تنظیمیں اور افراد معروف، سنجیدہ اور جانے پہچانے ہوتے ہیں لیکن بہت سی تنظیمیں اور کارکن موسمی ہوتے ہیں۔ان کی میراث ایک آدھ پلے کارڈ یا کچھ بینرز ہیں۔ انہیں اپنے ملک میں کوئی نہیں جانتا مگر جنیوا میں وہ مانوس اجنبیوں کے درمیان چوڑے ہو کر چلتے ہیں۔ کچھ واقعی دردِ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر جنیوا آتے ہیں اور آواز اٹھاتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کی دال روٹی لابنگ کے نام پر چلتی ہے
یہ تنظیم بچپن میں ہی والدین کے ظلم و ستم کا شکار ہو کر مرگئی اور اس کی چتا نے دوسری عالمی جنگ کی شکل میں دنیا کو بھسم کر دیا اور پھر اس راکھ میں سے اقوامِ متحدہ کا جنم ہوا اور اقوامِ متحدہ کے زیلی اداروں نے ہی جنیوا کو عالمی سفارتی ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیا۔پناہ گزینوں کا مسئلہ ہو کہ مزدوروں کا ، نشریاتی و سیٹلائٹ فریکوئنسی کا ، کہ انسانی حقوق کے معاملے پر چیخم دھاڑ کا۔ سب کے ڈانڈے جنیوا میں ہی ملتے ہیں۔
ایک مقامی سوئس کے بقول اقوامِ متحدہ کی وجہ سے جنیوا میں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سبب بینکنگ سیکٹر کو فروغ ملا ہے۔ورنہ ہم تو سو سال پہلے بھی گھڑیاں اور چاکلیٹ بنا کر بیچ رہے تھے۔
اقوامِ متحدہ کی موجودگی سے جنیوا میں ایک اور صنعت کو بھی فروع ملا۔یعنی این جی او انڈسٹری۔سال بھر یہاں اقوامِ متحدہ کے کسی نہ کسی زیلی ادارے کا اجلاس ہوتا رہتا ہے اور سال بھر طرح طرح کی این جی اوز اور پریشر گروپ آس پاس منڈلاتے اور لابنگ میں مصروف رہتے ہیں مگر لابنگ کو این جی او کلچر میں اب ایک برا لفظ سمجھا جاتا ہے ۔اب لابنگ کو ایڈووکیسی کہنے کا فیشن ہے ۔جیسے گولہ باری یا بمباری سے کسی انسانی آبادی کو پہنچنے والے جانی و املاکی نقصان کو اب کولیٹرل ڈیمیج اور کسی بھی تباہ کن جنگی جہاز کو سٹریٹیجک پلیٹ فارم کہہ کر خوشگوار بنا لیا جاتا ہے۔
جس زمانے میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا اجلاس ہو رہا ہو اس دوران جنیوا آپ کو دنیا بھر کے دل جلوں اور بھانت بھانت کے ایڈوکیسی کرنے والے گروہوں اور تنظیموں سے ہرا بھرا دکھائی دے گا۔ ان میں سے کئی گروہ ، تنظیمیں اور افراد معروف، سنجیدہ اور جانے پہچانے ہوتے ہیں لیکن بہت سی تنظیمیں اور کارکن موسمی ہوتے ہیں۔ان کی میراث ایک آدھ پلے کارڈ یا کچھ بینرز ہیں۔ انہیں اپنے ملک میں کوئی نہیں جانتا مگر جنیوا میں وہ مانوس اجنبیوں کے درمیان چوڑے ہو کر چلتے ہیں۔ کچھ واقعی دردِ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر جنیوا آتے ہیں اور آواز اٹھاتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کی دال روٹی لابنگ کے نام پر چلتی ہے۔آج یہاں کل وہاں آج اس کے ٹکٹ پر کل اس کے گھر پر۔
مجموعی لحاظ سے ان سرگرمیوں کا مثبت و مؤثر پہلو یہ ہے کہ جب کوئی ملک آدھے سچ کے خوشگوار مگر مبہم لفظیاتی کپڑے پہنا کر اپنے ہی جیسے دو سو ممالک کے سامنے اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو کیٹ واک کے لیے لاتا ہے تو برابر والے کانفرنس روم یا لابی میں کوئی نہ کوئی این جی او یا ایڈووکیسی کا بدتمیز ماہر صحافیوں اور عام لوگوں کو اس ملک کی شاندار سفارتی لفظیاتی پوشاک میں پوشیدہ انسانی حقوق کی کھردری تصویر دکھا رہا ہوتا ہے۔
اکثر ممالک کا میڈیا ان چیزوں سے لاتعلق ہی رہتا ہے۔مثلاً پاکستان میں شاید ہی کوئی اخبار یا چینل ہو جس نے جنیوا میں دو ہفتے تک جاری رہنے والے انسانی حقوق کونسل کے جائزہ اجلاس کی کوریج کی ہو۔اس کا نقصان بس اتنا ہوتا ہے کہ حکومت انسانی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جو چاہے دعوے کرتی پھرے انہیں اندرونِ ملک چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
بھلا کون سی حکومت ہوگی جو ایسے نادان و انجان میڈیا کی شکر گزار نہ ہو۔






























