
کوئٹہ میں عید کے دن بھی ریلی نکالی گئی۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے اپنے عزیزوں کی بازیابی کے لیئے عید کے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا اور کوئٹہ شہر میں ایک ریلی نکالی۔
لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے کوئٹہ شہر میں ’وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز‘ کے زیر اہتمام یہ ریلی نکالی۔
ریلی کے شرکاء نے شہر کے مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی ۔ ان کے زیادہ تر نعرے لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبات پر مشتمل تھے۔
ریلی میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے جن کے ہاتھوں میں ان کے لاپتہ رشتہ ادروں کی تصاویر تھیں۔
کوئٹہ سے صحافی محمد کاظم کے مطابق ریلی میں شریک ایک آٹھ سالہ بچی نازیہ نے اپنے خطاب میں کہا ’ساری دنیا کے مسلمان آج اپنے اپنے گھروں میں عید منارہے ہیں۔ لیکن آؤ دیکھو نہ میں نے دوسرے بچوں کی طرح مہندی لگائی ہے اور نہ ہی نئے کپڑے پہنے کیونکہ میرا بھائی ظفراللہ ڈھائی سال سے لاپتہ ہے اور معلوم نہیں وہ کس حال میں ہے‘۔
سنہ دوہزار کے بعد سے بلوچستان سے لوگوں کی مبینہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں اور ’وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز‘ کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
"ساری دنیا کے مسلمان آج اپنے اپنے گھروں میں عید منارہے ہیں۔ لیکن آؤ دیکھو نہ میں نے دوسرے بچوں کی طرح مہندی لگائی ہے اور نہ ہی نئے کپڑے پہنے کیونکہ میرا بھائی ظفراللہ ڈھائی سال سے لاپتہ ہے اور معلوم نہیں وہ کس حال میں ہے"
آٹھر سالہ نازیہ
تاہم اس کے برعکس بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد صرف اٹھانوے ہے لیکن اس سال جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال سے متعلق درخواست کی سماعت کا سلسلہ شروع کیا تو صرف دو تین سماعتوں کے دوران سپریم کورٹ میں ڈیڑھ سو سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے درخواستیں داخل ہوئیں تھیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس درخواست کی سماعت کے دوران یہ کہا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اتوار کو ریلی کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ’وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز‘ کے وائس چیئرمین عبدالقدیر بلوچ نے جن کے لاپتہ بیٹے جلیل ریکی کی گمشدگی کے بعد تشدد زدہ نعش ملی تھی بتایا کہ ’دوہزار ایک سے لیکر اب تک چودہ ہزار چارسو بلوچ لاپتہ ہیں۔ انہی میں ساڈھے پانچ سو چھ سو کے قریب لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ چار سو لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی ہوئی ہے۔ آجکل اٹھاتے نہیں ہیں بلکہ مبینہ طور پر مارکر پھینک دیتے ہیں‘۔
اس ریلی میں کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی لوگوں نے شرکت کی جن میں سات سو کلومیٹر دور کیچ سے ایک خاتون بھی شامل تھیں جو اپنے علاقے میں عید منانے کے بجائے طویل مسافت طے کرکے اپنے بوڑھے نانا منشی محمد بخش کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرنے آئی تھیں۔
ریلی کے شرکاء نے حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں۔






























