
اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں اور ابھی بھی ہو رہی ہیں: اولیوئیے دی فرویل
اقوام متحدہ کے جبری گمشدگیوں کے بارے میں جائزہ مشن نے حکومتِ پاکستان اور عدلیہ پر لاپتہ افراد کے معاملے سے نمٹنے پر زور دیا ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ کے جبری گمشدگیوں کے بارے میں جائزہ مشن نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
جبری گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کے اس ورکنگ گروپ کے سربراہ اولیوئیے دی فرویل ہیں جبکہ عثمان الحاجی اس کے رکن ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ورکنگ گروپ کے سربراہ اولیوئیے دی فرویل نے کہا کہ ان کو حکومتِ پاکستان نے آنے کی دعوت دی تھی۔
اس مشن نے پاکستان میں دس روز گزارے اور سندھ اور بلوچستان کا دورہ کیا۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے بقول مشن نے حکومتِ پاکستان کی لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کی تعریف کی لیکن مزید کہا کہ حکومت کو ابھی بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ورکنگ گروپ کے سربراہ اولیوئیے دی فرویل نے کہا ہے کہ اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں اور ابھی بھی ہو رہی ہیں۔
’ہم نے نوٹ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے کیسز ابھی بھی حکام کو پہنچائی جاتی ہیں لیکن ان گمشدگیوں کی تعداد کے حوالے سے متنازعہ ہے۔‘
ورکنگ گروپ کے سربراہ نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں کی انکوائری کمیشن کے سامنے پڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے احتساب کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس مشن سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے ممبران نے بھی اس مشن کی پاکستان آمد پر تنقید کی تھی۔






























