
جنوبی وزیستان کی تحصیل لدھا میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملے میں چار اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا میں مسلح افراد نے سیکیورٹی فورز کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں حکام کے مطابق چار اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
یہ واقعہ لدھا تحصیل میں سام کے مقام پر پیش آیا ہے۔ سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ آدھی رات کو مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر بھاری اسلحے سے حملہ کیا ہے جس پر فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے ۔
اہلکار نے بتایا کہ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کی گئی اور یہ جھڑپ ایک بجے سے لے کر صبح پانچ بجے تک جاری رہی۔ اہلکار کے مطابق اس حملے میں چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے جبکہ یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مسلح شدت پسندوں کا کتنا نقصان ہوا ہے ۔
اس طرح کے واقعات میں حکام کے مطابق حملہ آور اپنے زخمی اور لاشیں موقع پر چھوڑتے نہیں بلکہ ساتھ لے جاتے ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہےکہ اس کارروائی میں سیکیورٹی فورسز کے پندرہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ جھڑپ میں ان کا ایک ساتھی ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں اگست کے مہینے میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں نو سیکیورٹی اہلکار اور چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح اس سے پہلے مارچ میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔






























