امن ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ

بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
سوات میں طالبان کے حملےمیں شدید زخمی ہو جانے والی چودہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کے معالجین ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگلے آٹھ سے دس دن ان کی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ملالہ کے چچا محمود الحسن نے پشاور کے سی ایم ایچ ہسپتال سے بدھ کی صبح بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بھتیجی فی الحال بے ہوش ہیں اور ان کا آپریشن ابھی جاری ہے۔
کلِک گاڑی روک کر ملالہ کا پوچھا اور گولی چلا دی
محمود الحسن نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ملالہ کی صحت کے بارے میں صورتحال واضح ہونے میں ابھی مزید چند گھنٹے لگیں گے۔
اس سے قبل منگل کو خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر بشیر بلور نے پشاور میں ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ گولی اب بھی ملالہ کے جسم میں ہی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملالہ کی زندگی کے لیے اگلے آٹھ سے دس روز نہایت اہم ہیں۔
"گولی اب بھی ملالہ کے سر میں ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملالہ کی زندگی کے لیے اگلے پانچ سے دس دن نہایت اہم ہیں: سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور"
عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبائی وزیر بشیر بلور کا کہنا تھا کہ گولی ملالہ کے ماتھے میں لگی اور دماغ سے گزر کر گردن کی طرف گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملے سب پر ہو رہے ہیں اور خود ان پر بھی ہوئے ہیں ’لیکن ملالہ یوسفزئی کو تحفظ فراہم کرنے کی زیادہ ضرورت تھی۔ ملالہ کو سکیورٹی فراہم کرنی چاہیے تھی اور سکیورٹی فراہم کرنا انتظامیہ کا کام تھا‘۔
بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی منگل کو سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئی تھیں اور ابتدائی طبی امداد کے بعد ملالہ کے والد کے اصرار پر انہیں پشاور منتقل کیا گیا تھا۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔






























