
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلوس کو ٹانک نہیں آنے دیا جائے گا
پاکستان تحریک انصاف کا امن مارچ جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ کائی جائے گا یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن اس مارچ کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے پہلے سے مشکلات کے شکار لوگوں کومزید مسائل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
گزشتہ دو دنوں سے جنوبی وزیرستان کی پولٹیکل انتظامیہ نے راہ داری یا وطن کارڈ کے ذریعے سے اپنے علاقوں کو جانے والے مقامی افراد کے جانے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی ہے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران دورے سے دو دن پہلے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر وہاں سے ٹانک پہنچے تاکہ پولیٹکل انتظامیہ سے راہداری حاصل کرنے کے بعد کوٹ کائی جایاجائے لیکن ٹانک میں موجود جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل انتظامیہ نے راہداری دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے راہداری پر مکمل پابندی عائد ہے۔
جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ شاہداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریک انصاف کی ریلی کو کسی بھی صورت میں جنوبی وزیرستان جانے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلی کے روکنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
پولیٹکل انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں کا کہنا ہے وہ عمران خان کی ریلی کو جنوبی وزیرستان ہی نہیں بلکہ ٹانک بھی آنے نہیں آنے دیں گےاور ٹانک میں ان کا داخلہ روکنے کے لیے پولیس کی مدد لی جائے گی۔
ضلع ٹانک جنوبی وزیرستان کے ساتھ اس جگہ واقع ہے جہاں جنوبی وزیرستان کے انتظامی اور ترقیاتی سکیموں کے اکثر دفاتر موجود ہیں۔ ٹانک سے لیکر کوٹ کائی تک سکیورٹی فورسز کے ایک درجن کے قریب چیک پوسٹ موجود ہیں جن میں کاوڑ، منزئی، خرگی، کڑی وام، جنڈولہ، جنڈولہ بریج، سپنکئی راغزئی، منڈانہ اور کوٹ کائی فورٹ شامل ہیں۔
"جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ شاہداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریک انصاف کی ریلی کو کسی بھی صورت میں جنوبی وزیرستان نہیں جانے دیا جائے گا۔"
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کوٹ کائی سے ٹانک تک کا راستہ بھی صرف ایک گھنٹے کا ہے لیکن سکیورٹی فورسز کی زیادہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے وہ یہ راستہ تین گھٹوں میں طے کرنے پر مجبور ہیں۔
کوٹ کائی کے چند رہایشی بھی ٹانک پولیٹکل کچہری میں موجود تھے لیکن انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے خوف کی وجہ سے وہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
کوٹ کائی کے قریب علاقے کنڑہ ہیبت خیل کے ایک رہائشی طارق محمود نے بتایا کہ وہ عمران خان کے دورے کے لیے بہت خوش تھے لیکن گزشتہ تین چار دنوں سے پولیٹکل انتظامیہ نے علاقے کو سیل کیا ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب عمران خان کا دورہ ہو یا نہ ہو لیکن پولیٹکل انتظامیہ کی بندش کی وجہ سے گزشتہ تین چار دنوں سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی اور غیر مُلکی میڈیا عمران خان کا دورۂ وزیرستان بہت اہم قرار دے رہا ہے لیکن ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں اس دورے کے حوالے سے کوئی خاص سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی بعض سڑکوں اور چند ایک چوک میں عمران کے تصاویر ؛ بینر اور کُچھ جھنڈے نظر آ رہے ہیں۔
ٹانک کی صورت حال بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے مختلف نہیں ہے۔ ٹانک شہر میں واقع ٹریفک چوک میں ایک طرف عمران کا بینر لگا ہوا ہے تو دوسری طرف نواز شریف کا ایک بڑا بینر لگا ہوا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محسود قبائل کے علاقے میں جنڈولہ سے لے کر مکین کے علاقے تک ایک پکی سڑک بنائی گئی ہے۔ کوٹ کائی کے مقام پر چلڈرن پارک، فش فارم، پولٹری فارم اور سراروغہ میں ایک سپورٹس سٹیڈیم تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چگملائی میں ووکیشنل کالج اور دوسرے تعلیمی ادارے بنائے گئے ہیں۔
"عمران خان کا دورہ ہو یا نہ ہو لیکن پولیٹکل انتظامیہ کی بندش کی وجہ سے گزشتہ تین چار دنوں سے عام شہریوں کو مُشکلات کا سامنا ہے"
مقامی لوگوں نے یہ بتایا کہ محسود قبائل کے دوبارہ آباد ہونے والے علاقوں میں فوج نے کچھ تعمیری کام کیے ہیں لیکن وہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔
محسود قبائل کے علاقے لدھا کے رہائشی محمد شیر نے بتایا کہ چند ایک علاقوں میں چالیس پچاس فیصد لوگ واپس جا چکے ہیں لیکن اکثر لوگ واپس جانا نہیں چاہتے کیونکہ ایک طرف علاقے میں ان کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور ان کے روز کار کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محسود قبائل کے اکثر متاثرین نے بندوبستی علاقوں میں محنت مزدوری شروع کر دی ہے اور کا دل نہیں چاہتا کہ وہ واپس جائیں۔






























