سندھ میں بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 08:58 GMT 13:58 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ آرڈیننس کے خلاف حکومتی اتحاد سے الگ ہونے والی جماعتوں کے رہنماوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے لوکل باڈیز آرڈیننس پیش کیا۔

کلِک سندھ میں نیا بلدیاتی نظام نافذ

اس کے کچھ دیر بعد ہی آرڈیننس کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی گئی جبکہ سابق اتحادی جماعتوں کے اراکین نے اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔

دریں اثناء بلدیاتی نظام کے خلاف قوم پرست جماعتوں کے اعلان پر سندھ کے کئی شہروں میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔

اندرونِ سندھ سمیت بیشتر علاقوں میں روزمرہ کی سرگرمیوں میں کمی کی اطلاعات ہیں جبکہ کراچی میں ہڑتال کا زیادہ اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔

سندھ یونیورسٹی میں پیر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں جبکہ بیشتر نجی تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس سنہ دو ہزار بارہ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنگشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی پر مشتمل تیرہ اراکان نے اسمبلی کے فلور پر احتجاجی دھرنا دیا جس کی وجہ سے معمول کی کارروائی تاخیر سے شروع ہوئی۔

ان جماعتوں نے آرڈیننس کے خلاف احتجاجاً حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پیر کے اجلاس میں لوکل باڈیز آرڈیننس منظوری کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ فنگشنل کے پارلیمانی رہنما جام مدد نے سپیکر سندھ اسمبلی سے درخواست کی کہ انہیں علیحدہ نشستیں الاٹ کی جائیں۔

اس پر سپیکر نثار کھوڑو نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کا نوٹیفیکشن نہیں آیا اس لیے آپ کو علیحدہ نشستیں الاٹ نہیں کی جا سکتی ہیں۔

سندھ میں لوکل باڈیز آرڈیننس کے خلاف کئی شہروں میں قوم پرست جماعتوں اور سندھ بچاؤ تحریک کی کال پر ہڑتال کی جا رہی ہے۔

کراچی میں ہڑتال کی کال کا کوئی خاص اثر دیکھنے میں نہیں آیا اور زیادہ تر کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ صوبہ سندھ کی حکومت نے صوبے میں نئے بلدیاتی نظام کا قانون نافذ کیا تھا۔

اس قانون کو سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دو ہزار بارہ کا نام دیا گیا تھا اور اس نظام کے تحت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ کو میٹروپولیٹن کارپوریشنز کا درجہ دیا گیا۔

اس نظام کے خلاف سندھ میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے وزراء نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>