
پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے صوبے میں نئے بلدیاتی نظام کا قانون نافذ کردیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے جمعے کو علی الصبح کراچی میں صحافیوں کو بتایا کہ اس قانون کو سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دو ہزار بارہ کا نام دیا گیا ہے۔
اس نظام کے تحت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ کو میٹروپولیٹن کارپوریشنز کا درجہ دیا گیا ہے۔
ان شہروں میں میئرز اور ڈپٹی میئرز منتخب ہوں گے جبکہ باقی ماندہ اٹھارہ ضلعوں میں ضلع کونسلیں ہوں گی۔
میٹروپولیٹن کارپوریشنز اور ضلع کونسلوں کے ماتحت ٹاؤن یا تعلقہ کونسلیں اور یونین کونسلیں ہوں گی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اس قانون میں یہ گنجائش بھی ہے کہ صوبائی حکومت مزید میٹروپولیٹن کارپوریشنز بھی بناسکتی ہے۔
سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسا نظام لائے ہیں جس سے سندھ کی دیہی اور شہری آبادی کے درمیان محبت بڑھے اور وہ ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں۔‘
اس موقع پر متحدہ قومی موومینٹ کے رہنما رضا حسن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے میں نیا بلدیاتی نظام نافذ کرکے تاریخ رقم کی ہے۔
صوبہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے معاملے پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں طویل عرصے سے اختلاف تھا اور اس مسئلے پر ایم کیو ایم حکومت سے ایک مرتبہ علیحدہ بھی ہوچکی ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں ایم کیو ایم کے سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں کثرتِ رائے سے کمشنری نظام بحال کرنے کا بِل منظور کیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے شدید احتجاج ہوا اور پھر گورنر سندھ نے اگست کے آغاز میں ایک آرڈینینس کے ذریعے دوہزار ایک کا مقامی حکومتوں کا نظام بحال کردیا تھا۔
اس سے قبل حکمران جماعت ملک کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) ضیاء الحق کا بلدیاتی نظام کچھ ترامیم کے ساتھ نافذ کرنے کی حامی تھی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کی بھرپور حمایت کرتی رہی ہے ۔






























