
یوم عشق رسول پر پورے ملک خصوصاً کراچی میں پرتشدد مظاہرے ہوئے
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ ’یومِ عشق رسول‘ پر مندر میں توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان حملہ آوروں کے خلاف دفعہ 295 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ دفعہ توہینِ مذہب کی غیر اسلامی عنصر کے حوالے سے ہے۔ یہ دفعہ عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے حوالے سے ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے امریکہ میں پیغمبرِ اسلام پر بنی متنازع فلم کی مذمت کرتے ہوئے اکیس ستمبر کو یومِ عشق رسول منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس دن پاکستان کے بڑے شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں انیس افراد ہلاک ہو گئے جبکہ نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
اکیس ستمبر کو یہ واقعہ کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں پیش آیا۔ اس واقعے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر ظفر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ گلشنِ معمار کے اس علاقے میں پچیس سے تیس ہندو گھرانے آباد ہیں اور ان کا ایک مندر ہے۔
تفتیشی افسر کے بقول اکیس ستمبر کو چند ’شرارتی‘ افراد نے اس علاقے کے مندر میں گھس کر مورتیوں کو توڑا پھوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندو گھرانے خوف کے باعث ایف آئی آر درج کرانا نہیں چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان سے ایف آئی آر درج کرانے کو کہا۔
تفتیشی افسر کے بقول حملہ آوروں کی قیادت مولوی حبیب الرحمان کر رہے تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایف آئی آر میں نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ افراد اسی علاقے میں آس پاس کے علاقے کے رہائشی ہیں۔






























