بلوچستان: شیعہ زائرین کی بس پر بم حملہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 04:06 GMT 09:06 PST

بلوچستان میں شیعہ زائرین پر حملے کے واقعات کئی بار پیش آ چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شیعہ زائرین کی ایک بس پر بم حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شیعہ زائرین ایران سے واپس کوئٹہ آ رہے تھے کہ ضلع مستونگ میں ان کی بس بم دھماکے کی زد میں آ گئی۔

پولیس حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب کی جانب پچس کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آنے والے واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔

مستونگ کے ڈپٹی کمشنر عرفان شاہ گرشین نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ منگل کو ہونے والے اس دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس وقت تک حمتی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا یا پہلے سے بم نصب کیا گیا تھا۔

زائرین کی بس کی حفاظت کے لیے ایک گاڑی میں سوار تین سکیورٹی اہلکار بھی بم دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں شیعہ برادری پر اس طرح کے حملوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے بھی کوئٹہ تافتان قومی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے میں ایران میں زیارتوں کے لیے کوئٹہ سے جانے والے یا ایرن سے واپس آنے والے زائرین پر کئی حملے ہو چکے ہیں جس میں سے زیادہ ترحملوں کی ذمہ داری کالعدم لشکرجھنگوی نے قبول کی ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری پر بھی آئے روز حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں کے خلاف صوبے میں شیعہ برادری کئی بار احتجاجی مظاہرے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی چکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>