
’یہ تاثر غلط ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات ملتوی کرانا چاہتی ہے‘۔ صدر آصف علی زرداری
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی توقع کے مطابق ملک میں بجلی کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا اور یہ حکومت لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
یہ بات انہوں نے بی بی سی کے ساتھ جمعرات کو ایوان صدر میں ظہرانے پر خصوصی ملاقات میں غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔
ملک میں بجلی کے بحران کے حوالے صدر زرداری نے کہا کہ یہ ان کی اولین ترجیح ہوگی کہ وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے یا اُسے کم سے کم کرنے کے لیے وہ معاملات کی خود نگرانی کریں، تاکہ جلد سے جلد اس میں بہتری لائی جاسکے۔ پیپلز پارٹی کے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں ملک میں بجلی کی پیدوار میں ساڑھے تین ہزار میگاواٹ اضافہ ہوا لیکن ملک سے بجلی کا بحران ختم نہیں ہو سکا۔
صدرِ پاکستان نے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ لیکن انہوں نے اس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور دنیا بھر میں اقتصادی مشکلات کو قرار دیا۔
صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات خود کم کیے اور پارلیمان کو طاقتور بنایا۔ ان کے بقول میاں نواز شریف نے انہیں اس بات پر نہ صرف سراہا بلکہ کہا کہ انہیں یقین نہیں آیا کہ کوئی صدر اپنے اختیارات چھوڑ سکتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انہوں نے آئین میں وسیع پیمانے پر تبدیلی لائی اور مرکز سے صوبوں کو اختیارات منتقل کیے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو خودمختاری دینے سمیت انہوں نے اداروں کی سطح پر بہتر کام کیا ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور حکومت ایسے شفاف انداز میں انتخابات منعقد کرائے گی کہ مخالفین کو اعتراض کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
"پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایک منتخب عوامی حکومت سے دوسری منتخب عوامی حکومت کو پر امن اور جمہوری طور پر اقتدار منتقل ہوگا۔"
صدر آصف علی زرداری
نگران حکومت کے قیام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فی الوقت اس بارے میں انہوں نے سوچا نہیں ہے۔ لیکن ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وقت آئے گا تو یہ معاملہ بھی اتفاق رائے سے حل کریں گے اور امید ہے کہ کسی کو اعتراض کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایک منتخب عوامی حکومت سے دوسری منتخب عوامی حکومت کو پر امن اور جمہوری طور پر اقتدار منتقل ہوگا۔
ان کے بقول ایسا ہونا ان کے لیے ایک منفرد اعزاز کی بات تو ضرور ہوگی لیکن یہ عمل پاکستان جیسے ملک میں پائیدار جمہوری عمل کے تسلسل کی اہم کڑی بھی ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار آزاد اور غیر متنازعہ الیکشن کمیشن بنا ہے اور کمپیوٹرائزاڈ ووٹر فہرستوں کی تیاری شفاف انتخابات کی طرف اہم قدم ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتخابی عمل کی بات کی ہے اور کبھی اس سے راہِ فرار اختیار نہیں کی۔
انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابات ملتوی کرانا چاہتی ہے۔ ان کے بقول ایسا وہ لوگ ہی سوچتے ہیں جو جمہوری عمل میں یقین نہیں رکھتے۔






























