
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عام انتخابات سے قبل ہر قیمت پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا جائے۔
صدر زرداری نے یہ بات کراچی میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں صوبائی اور وفاقی کابینہ کے اراکین اور پپلزپارٹی کے سینیئر ارکان نے شرکت کی۔
صدر نے کہا کہ جہاں تک سندھ کا معاملہ ہے تو بلدیاتی نظام کا بل سندھ کی اسمبلی سے اگلے دو ماہ میں منظور کر لیا جائے گا۔
نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق انہوں نے کہا کہ آنے والے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی اپنے موجودہ اتحادیوں سے مل کر انتخاب لڑے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلزپارٹی انتخابات میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کے بعد مرکز اور صوبوں میں حکومت بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور وہ مفاہمت کی اپنی پالیسی کو جمہوریت کے استحکام کے لیے جاری رکھے گی۔
اجلاس میں توانائی کی صورتحال اور اس کی کمی پر قابو پانے کے لیے کیےگئے مختلف اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے پٹرولیم، خزانہ اور پانی و بجلی کی وزارتوں سے کہا کہ وہ ملک سے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لیے مل کر مربوط انداز میں اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا ملک کی معیشت پر منفی اثر ہو رہا ہے جس کی حکومت مزید متحمل نہیں ہو سکتی۔
صدر نے ہدایت کی کہ انہیں توانائی کی پیداوار سے آگاہ رکھا جائے کیونکہ اگلے انتخابات کے انعقاد سے پہلے توانائی کی صورتحال کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیج ہے۔
" کراچی میں امن و امان کی مکمل طور پر بحالی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔"
آصف علی زرداری
پانی و بجلی کے وفاقی وزیر چودھری احمد مختار نے اجلاس کو بجلی کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے کئی اقدامات کا مثبت نتیجہ برآمد ہو رہا ہے اور فراہمی و طلب کے درمیان فرق بھی کم ہوا ہے۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ بجلی فراہمی کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ بارشوں کے باعث ڈیموں میں پانی کی سطح میں اضافے کے ساتھ بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر واپڈا کے چیئرمین نے اجلاس کو مختلف ہائیڈل پاور پراجیکٹس کے بارے میں آگاہ کیا۔ اجلاس کو دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم میں پانی بھر رہا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار ایک سو اسُی فٹ ہو چکی ہے جبکہ اس ڈیم کی گنجائش ایک ہزار دو سو تیس فٹ ہے۔
اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس موقع پر سندھ کے وزیراعلٰی سید قائم علی شاہ نے صوبے خاص طور پر کراچی میں امن وامان برقرار رکھنے کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ وہ جرائم پیشہ افراد سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہو سکیں۔
اس موقع پر صدر زرداری نے زور دیا کہ کراچی میں امن و امان کی مکمل طور پر بحالی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کراچی میں قتل و غارت گری کے واقعات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور ہدایت کی کہ ایسے افراد جو ان واقعات میں ملوث ہوں ان سے بغیر کسی سیاسی مصلحت کے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے۔






























