
پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثے میں دو سو چونسٹھ افراد ہلاک گئے تھے۔
پاکستان کے شہر کراچی کے اس کارخانے کے تین مالکان نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے، جہاں آگ لگنے سے دو سو چونسٹھ افراد ہلاک گئے تھے۔
ادھر سندھ کے وزیر صنعت عبدالرؤف صدیقی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے کے وہ خود کو ذمے دار تو نہیں سمجھتے البتہ استعفیٰ دے کر اخلاقی ذمے داری پوری کررہے ہیں۔
کراچی کے غربی علاقے بلدیہ ٹاؤن علی انٹر پرائزز نامی اس کارخانے میں منگل کی شام آگ لگی تھی۔
کارخانے کے تین مالکان، عبدالعزیز بھائیلہ، ارشد بھائیلہ، اور شاہد بھائیلہ کی ضمانت کی درخواست سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی کے روبرو دائر کی گئی تھی۔
تینوں افراد کے وکیل عامر منصوب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے تینوں افراد کی اکیس ستمبر تک کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی ہے۔
اب سائٹ بی تھانے کے مقدمے میں انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے ان افراد کو حکم دیا ہے کہ وہ صبح نو بجے تفتیشی افسر کے پاس جاکر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے اور دو روز کے اندر اندر اپنے اصلی پاسپورٹ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے ناظر کے پاس جمع کروائیں گے۔
جب کہ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ تینوں افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے جائیں تاکہ یہ تینوں ملک سے باہر نہ جاسکیں۔
وکیل عامر منصوب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں ملزمان کے خلاف جو الزامات ہیں ان میں کسی کو جلانے سے متعلق دفعہ کے علاوہ قتلِ عمد کی دفعہ تین سو دو بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مجرمانہ غفلت کی دفعہ بھی شامل ہے۔
وکیل کے مطابق تینوں افراد نے پہلے ضمانت کے لیے کراچی کی عدالت سے رجوع کرنا چاہا مگر تمام معتلقہ اداروں کے باہر پولیس کی موجودگی کی بنا پر خدشہ تھا کہ تینوں کو یہ آئینی و قانونی حق حاصل ہونے سے پہلے ہی کہیں گرفتار نہ کرلیا جائے اور وہ اس حق سے محروم نہ رہ جائیں۔ انھوں نے کہا کہ حتکہ میرے مؤکل حیدرآباد تک بھی نہیں جاسکتے تھے اسی وجہ سے بحالت مجبوری لاڑکانہ کی عدالت تک جانا پڑا۔
"تینوں مالکان نے کراچی کی عدالت سے رجوع کرنا چاہا مگر خدشہ تھا کہ انھیں گرفتار نہ کرلیا جائے اسی وجہ سے بحالت مجبوری لاڑکانہ کی عدالت تک جانا پڑا۔"
مالکان کے وکیل
عامر منصوب خان نے بتایا کہ ان کے مؤکل جلد ہی ساری بات عوام کے سامنے لائیں گے، مگر انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ پولیس یا تفتیشی ادارے ان کے مؤکل کو پریشان کررہے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا ان کے مؤکل واقعے کی تفتیش اور تحقیقات میں ہر ممکن اور ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں اور دستیاب ہیں۔
علی انٹر پرائزز میں آگ لگنے کی وجہ سے جو لوگ مارے گئے، ان میں عورتوں اور بچوں سمیت کارخانے کے وہ مزدور شامل تھے جو آگ لگنے کے بعد کوئی اور ہنگامی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے پھنس کر ہلاک ہوئے۔ ان میں کئی لوگ اس عمارت کے تہہ خانے میں کام کر رہے تھے اور بالآخر آگ لگنے یا اس سے پیدا ہونے والے دھوئیں میں دم گھٹ جانے، یا فیکٹری میں موجود مختلف کیمیکلز میں آگ لگ جانے سے صورتحال مزید خراب ہوجانے سے ہلاک ہوئے۔ فیکٹری میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے وہاں بارہ سے سولہ سو افراد کام کرتے ہیں۔
’اخلاقی ذمے داری‘
سندھ کے وزیرِ صنعت رؤف صدیقی نے استعفے کے فوراً بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ کون اس واقعے کا ذمے دار ہے۔
جب ان سے کہا گیا کہ ذمے داروں کا نام بتائیں تو انہوں نے کہا کہ اصل میں تو ذمہ داری علی انٹر پرائزز نامی اس کارخانے کی مالکان کی بھی ہے جنہوں نے تمام خلاف ورزیاں کر رکھی تھیں جن کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے سامنے لوگ جل جل کر یا دم گھٹ جانے سے ہلاک ہوتے رہے۔
انہوں نے کہا ان کی وزارتِ صنعت کی ذمے داری صرف سہولتوں کی فراہمی کی ہے۔ صنعتی معاملات کی ذمے داری نہیں ہے ہماری، یہ شہری دفاع اور وزارت محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتے جس سے اس واقعے کی تفتیش پر اثر پڑ سکتا ہو۔ اس واقعے کا پہلا ذمہ دار تو وہ مالک ہے جس نے سنگین خلاف ورزیاں کر رکھی تھیں۔ میں نہ صرف اپنے عملے، اپنے محمکمے کے افراد اور افسران کا حکم دے سکتا ہوں۔ کسی اور محکمے کے کسی بھی اہلکار کو حکم یا ہدایت نہیں دے سکتے۔
اس سوال پر کہ جب آپ خود کو اس معاملہ کا ذمہ دار نہیں مسجھتے تو پھر استعفیٰ کیوں دے دیا، تو رؤف صدیقی نے کہا کچھ لوگوں کو ندامت سے بچانا تھا اور ذرائع ابلاغ پر سوال ہورہے تھے کہ کسی نے بھی استعفیٰ نہیں دیا، مہذب ممالک میں ایسے واقعات پر حکومتی اہلکار استعفیٰ دیتے ہیں تو پھر میں نے دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ مکمل تحقیقات کے بعد تمام ہلاک شدگان، زخمیوں اور لواحقین کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔






























