
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی امیر ملک اسحاق کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم ملک اسحاق کی اس درخواست پر دیا جس میں ضمانت پر رہائی کی استدعا کی گئی تھی۔
لاہور پولیس نے ملک اسحاق کو دس روز قبل اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ عمرے کی ادائیگی کے بعد لاہور ہوائی اڈے پہنچے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق کالعدم تنظیم کے رہنما پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے چند ہفتے قبل لاہور کے ایک جلسۂ عام میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔
ایڈیشنل سشین جج لاہور کے روبرو ملک اسحاق کے وکیل رانا عارف نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف کسی شہری نے مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس سے رجوع نہیں کیا بلکہ پولیس نے یہ مقدمہ سپیشل پرانچ کی رپورٹ پر درج کیا ہے۔
ملک اسحاق کے وکیل کے مطابق سپیشل پرانچ کی درخواست جو مقدمہ درج ہوا ہے وہ حکومت کی ان کے موکل کے خلاف بدنیتی کوظاہر کرتا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملک اسحاق کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی امیر ملک اسحاق کو مقامی مجسٹریٹ نے اکتیس اگست کو چودہ روز کے لیے عدالتی تحویل میں کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا ہے۔
خیال رہے ملک اسحاق پر لاہور میں سری لنکن کرکٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے اور سپریم کورٹ کے گزشتہ برس گیارہ جولائی کو ان کی ضمانت منظور رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔






























