
طالبان نے یہ پمفلٹ گذشتہ دنوں لکی مروت میں اباخیل اور تاجہ زئی میں تقسیم کیے ہیں
صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع لکی مروت کے بعض دیہات میں طالبان کی جانب سے ایسے پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کا کوئی قومی لشکر یا امن کمیٹی کی طرح کی تنظیم نہ تشکیل دیں اور نہ ہی ایسے کسی گروپ کا حصہ بنیں۔
یہ پمفلٹ گذشتہ دنوں کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے حلقہ لکی مروت کی جانب سے اباخیل اور تاجہ زئی میں تقسیم کیے گئے ہیں۔
پمفلٹ میں لکی مروت کے عوام کے نام پیغام دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ امن لشکر، امن کمیٹی یا چغہ کے نام سے کسی بھی گروپ میں شمولیت یا تشکیل سے گریز کریں۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں لکی مروت میں ’مروت قومی لشکر‘ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل کی گئی تھی جو بنیادی طور پر اغوا کاروں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جرگے پر طالبان نے اعتراض کیا تھا۔ بعد میں اس کا نام تبدیل کرکے ’مروت قومی گرینڈ جرگہ‘ رکھ دیا گیا تھا۔ اس جرگے کے امیر مولانا محسن شاہ کو گذشتہ ماہ نامعلوم افراد نے ان کے مدرسے میں قتل کر دیا تھا۔
اس جرگے کے موجودہ سربراہ اسلم خان کا کہنا ہے کہ یہ جرگہ جرائم پیشہ افراد اور ان تمام افراد کے خلاف ہے جو مروت قوم یا علاقے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں کسی جانب سے کسی نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے ۔ اسلم خان نے بتایا کہ یہ پمفلٹ کچھ عرصہ پہلے تقسیم کیے گئے تھے۔
ضلع لکی مروت میں چند ماہ پہلے سکولوں میں دھماکے کیے گئے تھے جن کی ذمے داری تحریک طالبان لکی مروت کے ترجمان نے قبول کی تھی، جب کہ سکولوں پر حملوں کی کچھ کوششوں کو مقامی پولیس نے ناکام بنا دیا تھا۔
لکی مروت کے علاقے شاہ حسن خیل میں یکم جنوری سن دو ہزار دس میں والی بال میچ کے دوران گاڑی میں بارود بھر کر دھماکا کیا گیا تھا جس میں ایک سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔






























