تصاویر: کراچی میں پولیس مرکز پر حملہ

تصاویر: کراچی میں پولیس مرکز پر حملہ

کراچی میں سی آئی ڈی پولیس کے مرکز پر ایک ٹرک بم حملہ ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکراچی میں سی آئی ڈی پولیس کے مرکز پر ایک ٹرک بم حملہ ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق بیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے۔
یہ واقعے شام کو سوا آٹھ بجے کے قریب پیش آیا جب وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے واقعے گلی سے کچھ مسلح افراد داخل ہوئے اور سی آئی ڈی سینٹر کے داخلی دروازے پر فائرنگ شروع کردی۔
،تصویر کا کیپشنیہ واقعے شام کو سوا آٹھ بجے کے قریب پیش آیا جب وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے واقعے گلی سے کچھ مسلح افراد داخل ہوئے اور سی آئی ڈی سینٹر کے داخلی دروازے پر فائرنگ شروع کردی۔
دھماکے سے عمارت کے قریب واقع رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے سے عمارت کے قریب واقع رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور ناکامی پر بارود سے بھرا ٹرک دروازے سے ٹکرا دیا۔
،تصویر کا کیپشنپولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور ناکامی پر بارود سے بھرا ٹرک دروازے سے ٹکرا دیا۔
آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے کہا کہ دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے کہا کہ دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔
دھماکے سے سی آئی ڈی سینٹر کی عمارت کا ایک بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا جس میں سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔ زخمیوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ کئی درجن ایمبولینسیں وہاں پہنچ گئیں۔
،تصویر کا کیپشندھماکے سے سی آئی ڈی سینٹر کی عمارت کا ایک بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا جس میں سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔ زخمیوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ کئی درجن ایمبولینسیں وہاں پہنچ گئیں۔
سی آئی ڈی سینٹر کے پیچھے واقعے پولیس کی رہائشی کالونی کے علاوہ سینٹر کے سامنے واقع بیس سے زائد گھر بھی متاثر ہوئے جن میں سے کئی منہدم ہوگئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسی آئی ڈی سینٹر کے پیچھے واقعے پولیس کی رہائشی کالونی کے علاوہ سینٹر کے سامنے واقع بیس سے زائد گھر بھی متاثر ہوئے جن میں سے کئی منہدم ہوگئے ہیں۔
دھماکے کی وجہ سے کئی درجن موٹر سائیکلیں اور کئی گاڑیاں متاثر ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کی وجہ سے کئی درجن موٹر سائیکلیں اور کئی گاڑیاں متاثر ہوئے ہیں۔
دھماکے کی جگہ سے ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشنری کام کر رہی تھی۔ جبکہ علاقے میں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی ہے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کی جگہ سے ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشنری کام کر رہی تھی۔ جبکہ علاقے میں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی ہے۔
دھماکے کے چند قدم کے فاصلے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس واقع ہے اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دو فائیو سٹار ہوٹل، امریکی قونصل خانہ اور کراچی کلب کی عمارت موجود ہے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کے چند قدم کے فاصلے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس واقع ہے اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دو فائیو سٹار ہوٹل، امریکی قونصل خانہ اور کراچی کلب کی عمارت موجود ہے۔
ڈیڑھ سو کے قریب زخمیوں میں سے اکثر کو جناح ہپستال پہنچایا گیا۔ ہسپتال کے شعبے حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے اور اس وقت دس آپریشن تھیٹر کام کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈیڑھ سو کے قریب زخمیوں میں سے اکثر کو جناح ہپستال پہنچایا گیا۔ ہسپتال کے شعبے حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے اور اس وقت دس آپریشن تھیٹر کام کر رہے ہیں۔
دھماکے کی جگہ پر پندرہ فٹ بڑا گڑھا پر گیا۔ تفتیشی اس حملے کو ستمبر دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے جیسا قرار دے رہے ہیں جس میں ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کی جگہ پر پندرہ فٹ بڑا گڑھا پر گیا۔ تفتیشی اس حملے کو ستمبر دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے جیسا قرار دے رہے ہیں جس میں ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ روز سی آئی ڈی پولیس نے لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا اور خیال ہے کہ گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کو اسی عمارت میں رکھا جا رہا تھا۔
،تصویر کا کیپشنگزشتہ روز سی آئی ڈی پولیس نے لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا اور خیال ہے کہ گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کو اسی عمارت میں رکھا جا رہا تھا۔
صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے مبینہ دہشت گرد پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں موجود نہیں تھے۔
،تصویر کا کیپشنصوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے مبینہ دہشت گرد پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں موجود نہیں تھے۔