شمالی علاقہ جات کیلیے اصلاحات

شمالی علاقہ جات
،تصویر کا کیپشنشمالی علاقہ جات میں اصلاحات کا مطالبہ دیرینہ ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی کابینہ نے سنیچر کو شمالی علاقہ جات کے لیے آئینی، سیاسی اور قانونی اصلاحات منظور کر لی ہیں جس کے بعد اب شمالی علاقہ جات کا نام گلگت بلتستان ہو گا اور اسے صوبے کے برابر خود مختاری حاصل ہوگی ۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں شمالی علاقہ جات میں پارٹی بنیادوں پر انتخابات، نئی انتخابی حلقہ بندیاں، الگ گورنر ، وزیر اعلیٰ، کابینہ اور اسمبلی کے قیام کی تجاویز پر غور کیا گیا۔

اس اجلاس میں کابینہ نے ان اصلاحات کی منظوری دے دی ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ شمالی علاقہ جات میں انتخابات نومبر کے بعد ہوں گے۔ گلگت بلتستان کی اپنی ایک کونسل ہو گی۔ صدر آصف علی زرداری ایک صدارتی حکم کے تحت اس پر عملدرآمد کے لیےحتمی منظوری دیں گے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی علاقہ جات کا درجہ آزاد کشمیر کی طرح کا ہوگا لیکن یہ کوئی علیحدہ صوبہ نہیں ہوگا۔

گلگت بلتستان کی آبادی کوئی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس کا رقبہ بہتر ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین اور افغانستان سے ملتی ہیں ۔ پاکستان بننے سے پہلے گلگت بلتستان جموں اور کشمیر ریاست کا حصہ تھا لیکن انیس سو سینتالیس میں اس ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے ووٹ دیا تھا۔

اس شمالی علاقے میں ان اصلاحات کا مطالبہ کافی دیرینہ ہے لیکن اس میں تاخیر کی جاتی رہی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے شمالی علاقہ جات میں آئینی اور سیاسی اصلاحات کے حوالے سے مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔

شمالی علاقہ جات کے حوالے سے قائم پارلیمان کی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وزیر اعظم کی سربراہی میں ہوا تھا جس میں ان ترامیم کو حتمی شکل دی گئی تھی۔