خیبر پختونخوا: شانگلہ میں جنگل کی آگ ایک ہی خاندان کے چار افراد کو نگل گئی

شانگلہ، آگ

،تصویر کا ذریعہFazale Akber

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں جنگل میں آگ لگنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین اور ایک کم عمر طالب علم لڑکا شامل ہیں۔

یہ واقعہ تحصیل چکسر کے گاؤں علی جان میں پیش آیا جس میں خیر النسا نامی خاتون، ان کی دو کم عمر بیٹیاں اور ان کے دیور محمد خالد ہلاک ہو گئے۔

اس خاندان کے قریبی رشتہ دار اور علاقے کے سکول کے استاد فضل اکبر واقعے کے عینی شاہد ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’آگ ہمارے گاؤں میں نہیں لگی تھی بلکہ قریب کے علاقے میں یہ آگ تقریباً صبح نو بجے لگی تھی۔ ہم لوگ قریب کے گاؤں میں آگ کے شعلے دیکھ ہی رہے تھے کہ چند ہی منٹوں میں یہ آگ ہمارے گاؤں علی جان تک پہنچ گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کا گھر پہاڑ کے اوپر واقع ہے اور جہاں پر آگ لگی، اس گاؤں کے قریب ہے۔

شانگلہ، آگ

،تصویر کا ذریعہFazale Akber

’چند ہی منٹوں میں ان کا گھر آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ سب سے پہلے خیر النسا آگ پر قابو پانے کے لیے بڑھیں تو ان کے ساتھ ان کی کم عمر بیٹیاں بھی شامل ہو گئیں۔‘

فضل اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی مدد کے لیے محمد خالد بھی چلا گیا۔

’آگ بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ ہمارا تو پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں ہوا بھی تیز ہوتی ہے جس وجہ سے آگ کا پھیلاؤ بہت زیادہ تھا۔‘

’یہ خواتین تو کیا، کوئی بھی اس آگ پر قابو نہیں پا سکتا تھا۔ یہ چاروں اپنا گھر بچانے کی کوشش میں آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔‘

خیرالنسا اور ان کی سات سالہ بیٹی موقعے پر ہی ہلاک ہو گئیں جبکہ محمد خالد اور 16 سالہ لڑکی بے ہوش ہوگئے تھے جن کو ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

Presentational grey line
آگ

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

ایک ماہ میں آگ لگنے کے 313 واقعات

عزیزاللہ خان، بی بی سی نیوز

خیبر پختونخوا کے جنگلات میں صرف ایک ماہ کے اندر آگ لگنے کی 313 واقعات پیش آئے ہیں اور اب بھی ضلع شانگلہ اور سوات کے کچھ علاقوں میں ریسکیو اہلکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

شانگلہ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ چکیسر مارتونگ اور قریبی علاقے میں پہاڑوں پر آگ چند روز سے جاری ہے اور آج یعنی سوموار کو الپوری کے پہاڑوں پر بھی آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق الپوری کے پہاڑوں پر فائر فایٹر اور محکمہ جنلات کے اہلکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

مقامی صحافی عمر باچا نے بی بی سی کو بتایا کہ چکیسر کا علاقہ اور اس کے قریب پہاڑ بہت اونچے ہیں لیکن یہ علاقہ خشک ہے جس کی وجہ سے یہاں آگ تیزی سے پھیل گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آگ علی جان کپیری کے علاقے تک پھیل گئی جہاں چار افراد اس کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔ انھوں نے اس خاندان کے افراد سے بات چیت کی تو انھیں بتایا کہ چاروں افراد کی ہلاکت ان کے سامنے ہوئی ہے اور آگ نے اتنی تیزی سے انھیں گھیر لیا تھا کہ انھیں وہاں سے نکلنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔

کہاں کہاں کتنی آگ

آگ

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

اس سال مئی کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے 20 اضلاع کے پہاڑوں میں آگ لگنے کے 313 واقعات پیش آئے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ آگ ایبٹ آباد کے پہاڑوں میں لگی ہے جس کی تعداد 100 کے قریب بتائی گئی ہے۔ ریسکیو 1122 کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مانسہرہ میں 49، ڈیرہ اسماعیل خان میں 38 اور لکی مروت میں آگ لگنے کے 24 واقعات پیش آئے ہیں۔ آگ لگنے کے ان واقعات میں جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں۔

ریسکیو کے ادارے کے ترجمان بلال فیضی نے بتایا کہ بیشتر علاقوں میں فائر فائٹر کے لیے مشکلات ہوتی ہیں اور خاص طور پر ایسے علاقے جہاں پانی پہنچانا مشکل ہوتا ہے وہاں مزید مشکلات سامنے آتی ہیں۔

ملاکنڈ ڈسٹرکٹ ریسکیو 1122 کے انچارج عارف امین نے بتایا کہ ان علاقوں میں آگ بجھانے کا عمل انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس کے لیے اہلکاروں کو تیار رکھا جاتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے بلوچستان کی سرحد کے قریب آگ لگنے سے جہاں 3 افراد ہلاک ہوئے وہاں چلغوزے اور زیتون کے جنگلات بھی جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ اسی طرح شانگلہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ محکمہ جنگلی حیات کے حکام کے مطابق ان واقعات سے جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اچانک جنگلات میں آگ کی وجوہات

آگ

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

پاکستان میں مختلف موسمی حالات کے جنگلات اور پہاڑ واقع ہیں ان میں کچھ ایسے ہیں جہاں باریش زیادہ رہتی ہیں اور سخت گرمیوں میں بھی موسم معتدل رہتے ہیں۔ ان علاقوں میں نمی زیادہ پائی جاتی ہے جس وجہ سے ان علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات کم پیش آتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں موسم انتہائی خشک رہتا ہے اور بارشیں نہ ہونے یا انتہائی کم ہونے کی وجہ سے پودے اور جنگلات خشک ہو جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات زیادہ پیش آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی کا موسم وقت سے پہلے شروع ہو جائے یا سردیاں وقت سے پہلے آ جائیں تو مختلف واقعات پیش آتے ہیں۔ اس سے مئی میں وقت سے پہلے گرمی آ جانے سے جنگلات اور پودے خشک ہو گئے ہیں جہاں ہلکی سی چنگاری سے بھی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ کوہ سلیمان کے علاقے میں چلغوزے اور زیتون کے جنگلات بارش نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی خشک ہو چکے تھے اور وہاں اگر کسی نے اپنے ذاتی استعمال یا کھانا پکانے کے لیے آگ لگائی یا سگریٹ پینے کے بعد مکمل طور پر نہیں بجھائی تو اس سے بڑی لگ سکتی ہے اور شاید ایسا ہی ہوا ہو۔

کوہ سلیمان کے قریب درازندہ کے علاقے سے موسی خان نے بتایا کہ ان علاقوں میں جہاں بارشیں نہیں ہو رہیں وہاں درخت اور جھاڑ پھوس خشک ہیں، یہاں ایک ایک درخت کو آگ لگتی ہے اور وہ آگ تنے کو جلا کر ٹہنیوں تک پہنچ جاتی ہے جب یہ ٹہنیاں نیچے گرتی ہیں تو یہ ہزاروں ماچس کی تیلیوں کی طرح پھیل جاتی ہیں جس سے آگ دور دور تک چلی جاتی ہے اس طرح اس پر قابو پانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ بیشتر علاقوں میں آبادی کے قریب بھی ایسی جگہ آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں جہاں زیادہ تر جانوروں کے لیے چارہ رکھا گیا ہوتا ہے۔ یہاں کسان اگلے موسم میں نرم چارہ حاصل کرنے کے لیے زمین پر موجود چارے کو آگ لگا دیتے ہیں اور کبھی کبھار یہ آگ بے قابو بھی ہو جاتی ہے۔ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی جاتی ہے اس سے ایک تو گھاس پھونس ختم ہو جاتی ہے اور چارے کی پیداوار بھی بڑھ جاتی ہے۔

محکمہ جنگلات کے کنزرویٹر حضرت میر نے بی بی سی کو بتایا کہ مون سون سے پہلے اپریل سے جولائی تک کے مہینوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان میں قدرتی وجوہات بھی شامل ہیں جیسا کہ گرج چمک سے جب بجلی گرتی ہے تو اس سے آگ لگنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدی گرمی سے بھی آگ لگنے کے امکانات ہوتے ہیں خاص کر اس وقت جب درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہو۔

Presentational grey line

فضل اکبر کا کہنا تھا کہ ’آگ اتنی تیز تھی کہ علاقے کے لوگوں کے پہنچنے سے قبل ہی ان کا نہ صرف گھر جل کر خاکستر ہوگیا تھا بلکہ وہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔ گھر کے ایک بزرگ جو بیمار ہیں، وہ گھر سے ایک طرف موجود تھے۔ وہ محفوط رہے۔‘

فضل اکبر کے مطابق اس گھر کے سربراہ محمد طاہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’وہ اتوار کے روز پہنچے تاہم ہم لوگوں نے باہمی مشورے کے ساتھ کل ہی نماز جنازہ اور تدفین کردی تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بظاہر تو محمد طاہر حوصلے میں ہیں مگر وہ بار بار اپنی اہلیہ، بیٹیوں اور بھائی سے متعلق ہی بات کر رہے ہیں۔ وہ ان کے لیے ہی کمانے کے مقصد سے دیار غیر گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ ’میں اپنی اہلیہ، بیٹیوں اور بھائی کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کر سکا۔‘

محمد خالد ہونہار طالب علم تھا

محمد خالد فضل اکبر کے طالب علم تھے۔ ’وہ ساتویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ اس سے تقریباً روزانہ ہی ملاقات ہوتی تھی۔ وہ انتہائی ہوشیار اور مؤدب طالب علم تھا۔ اکثر اوقات اگر اس کو تعلیم میں کسی مدد کی ضرورت ہوتی تو میرے پاس گھر بھی آجاتا تھا۔‘

شانگلہ، آگ

،تصویر کا ذریعہFazale Akber

،تصویر کا کیپشنمحمد خالد

فضل اکبر کہتے ہیں کہ محمد خالد اپنے مستقبل کے حوالے سے بہت حساس تھا۔

’وہ جانتا تھا کہ اس کا بھائی دیار غیر میں محنت مزدوری کر رہا ہے۔ اس بات کا اس کو بہت احساس تھا۔ وہ گھر کے تمام معاملات کی نہ صرف نگرانی کرتا تھا بلکہ اپنے بیمار والد کی دیکھ بھال کے علاوہ اپنی پڑھائی پر بھی توجہ دیتا تھا۔ ‘

فضل اکبر کہتے ہیں کہ اس وقت پورا علاقہ غم میں مبتلا ہے۔

محمد طاہر کا کہنا ہے کہ ’اب میں سعودی عرب جاؤں گا تو کس کے لیے محنت مزدوری کروں گا۔‘