گوادر مظاہروں پر عمران خان کی ٹویٹ، ’سمندر میں غیر قانونی فشنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا‘

گوادر دھرنا

،تصویر کا ذریعہJaved Baloch

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

'ہم ضدی لوگ نہیں ہیں۔ حل پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے نوٹس لیا تو مجھے عملدرآمد کی توقع ہے۔'

یہ کہنا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں 15 نومبر سے جاری 'حق دو تحریک' کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کا جو وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ بیان پر رد عمل کا اظہار کر رہے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ 28 دن سے جاری اس تحریک کا نوٹس لیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا گیا کہ گوادر کے محنت کش مچھیروں کے انتہائی جائز مطالبات پر کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے لکھا کہ سمندر میں ’ٹرالرز کے ذریعے غیر قانونی فشنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور وزیر اعلی بلوچستان سے بھی بات کروں گا۔‘

وزیر اعظم عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@ImrankhanPTI

خیال رہے کہ گوادر میں اس تحریک کے زیر انتظام گذشتہ 28 روز سے دھرنا جاری ہے جو 15 نومبر کو پورٹ روڈ سے شروع ہوا جس کے مجموعی 19 مطالبات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور غیر قانونی فشنگ کی روک تھام کے مطالبے بھی شامل ہیں۔

'عمل درآمد کی توقع ہے'

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے نوٹس لینے کی ٹویٹ کے بعد حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے بھی ٹوئٹر پر ردعمل میں کہا کہ انھیں اس بات کی امید ہے کہ مظاہرین کے مطالبات پر عمل ہو گا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ 'وزیراعظم نے اعلان کیا ہے تو مثبت سمجھتے ہوئے اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ گوادر کے مسائل حل ہوں تو ہم سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی۔ البتہ مسئلہ عملدرآمد کا ہے۔ وزیراعظم نے نوٹس لیا تو مجھے عملدرآمد کی توقع ہے۔ امید ہے کہ یہ توقع پوری ہوگی۔'

انھوں نے کہا کہ 'صوبائی حکومت ہمارے مطالبات جائز مانتی ہے جس کا اظہار صوبائی وزرا بارہا کرچکے اور کچھ نوٹیفیکیشنز بھی جاری کیے گئے مگر ان پر عملدرآمد نہیں کروایا جا سکا۔'

واضح رہے کہ 15 نومبر سے جاری اس تحریک کے زیر انتظام دھرنے کے دوران گوادر شہر میں تین بڑی ریلیاں نکالی گئی تھیں جن میں خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت کی تھی۔

ان میں سب سے اہم مطالبات بلوچستان کی سمندری حدود سے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر عائد پابندی کا خاتمہ ہے۔

گوادر میں دھرنا

،تصویر کا ذریعہ Javed Baloch

'وزیر اعظم نے دوسرے اہم مسئلے کا نام نہیں لیا'

گوادر کی معروف سیاسی شخصیت حسین واڈلیہ جو اس تحریک کا حصہ ہیں کہتے ہیں کہ 'دیر آید درست آید کے مصداق ہم وزیر اعظم صاحب کے بیان کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن گوادر کے لوگ اب عملی اقدامات چاہتے ہیں'۔

لیکن ان کا گلہ تھا کہ وزیر اعظم نے اس اہم مسئلے کا ذکر نہیں کیا جس کا حل صرف وفاق کے پاس ہے۔

حسین واڈیلہ نے کہا کہ وزیر اعظم کو چاہیے کہ ٹوکن کے نام پر سرحدی تجارت پر جو پابندیاں ہیں ان کا بھی نوٹس لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں غیرقانونی ماہی گیری کو روکنا بڑی حد تک بلوچستان حکومت کا کام ہے لیکن جہاں تک سرحدی تجارت بند ہونے سے لوگوں کی متاثر ہونے کی بات ہے تو وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کی وجہ سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر سرحدی اضلاع کے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب وہاں معاش اور روزگار کے دیگر ذرائع نہیں ہے تو پھر صدیوں سے جاری سرحدی تجارت کو پہلے کی طرح بحال کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کا انتظام وفاقی حکومت کے اداروں کے پاس ہے اس لیے وزیر اعظم کو چاہیے کہ انھوں نے ٹوکن کے نام پر وہاں جو پابندیاں یا رکاوٹیں کھڑی کی ہیں ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔

انھوں نے کہا کہ ٹوکن سے قبل جو سرحدی تجارت ہو رہی تھی اس سے عام آدمی بھی مستفید ہورہا تھا لیکن اب ان کے بقول ٹوکن سسٹم سے صرف وفاقی اداروں کے منظور نظر لوگوں اورگروہوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکمران یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی ہورہی ہے ۔لیکن گوادر میں جو احتجاج ہورہا ہے اس میں تو ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا ۔ حکومت کو تو ان پر امن احتجاج کرنے والوں کی بات کو تو مان لینی چاہیے۔‘

حسین واڈیلہ نے احتجاج ختم نہ کرنے کے حوالے سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ لوگ اب عملی اقدامات چاہتے ہیں اور صرف نوٹیفیکیشن نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا ہدایت الرحمان

'زیادہ تر مطالبات پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے'

وزیراعلی بلوچستان میر قدوس بزنجو نے وزیراعظم کی جانب سے گوادر تحریک کے مطالبات کا نوٹس لینے پر کہا ہے کہ صوبائی حکومت پہلے ہی کئی مطالبات پر عمل درآمد کر رہی ہے جن میں غیر قانونی ماہی گیری اور ٹرالنگ شامل ہیں۔

ایک بیان میں وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ گوادر تحریک کے مطالبات انسانی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہیں اور صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں آنے والے مطالبات پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔

انھوں نے دعوی کیا کہ اب تک صوبائی حکومت غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے، سرحدی تجارت کے آغاز اور ٹوکن سسٹم کے خاتمے سمیت گوادر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کر چکی ہے جب کہ متعلقہ محکمے کو گوادر شہر میں پانی کے مسائل فوری طور پر حل کرنے لیے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ گوادر اولڈ ٹاؤن کی ترقی کی منصوبہ بندی اور فنڈز کی فراہی پر بھی کام ہو رہا ہے جب کہ بجلی سمیت بعض دیگر مطالبات کا تعلق وفاق سے ہے۔

میر قدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ گوادر تحریک کے مطالبات پر پیشرفت کے حوالے سے وزیراعظم کو مفصل رپورٹ پیش کرینگے۔

گوادر

'سمندری حدود میں ممنوعہ جالوں کا استعمال نہ کیا جائے'

اگرچہ حق دو تحریک کے رہنماﺅں اور محکمہ فشریز بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں جو غیر قانونی ماہی گیری ہورہی ہے اس میں سندھ سے آنے والے ٹرالر زیادہ ملوث ہیں تاہم پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے غیر ملکی ٹرالنگ کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’ہماری سمندری حدود میں غیر ملکی ٹرالنگ ایک سنگین ایشو ہے۔ ہماری میری ٹائم ایجنسیز کو اس معاملے کو روکنا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے مقامی ماہی گیروں اور ماہی گیری کی صنعت کو ہمارے ہی پانیوں میں ان کے حقوق سے محروم کررہا ہے'۔

نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ گوادر کا احتجاج مخصوص مفادات کے خلاف قانونی اور جائز حقوق کا مطالبہ کررہا ہے ۔

حسین واڈیلہ کہتے ہیں کہ جہاں تک سندھ کے ماہی گیروں کی بات ہے وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمیں ان سے کوئی مخاصمت نہیں ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ جو ممنوعہ جال ہے ان کا ہمارے سمندری حدود میں استعمال نہ کیا جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ممنوعہ جال سمندری حیات کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ان پر پابندی ہے لیکن یہاں کیوں ان پر پابندی عائد نہیں کی جارہی ہے۔